امریکہ اور چین کے درمیان جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی ایک نئے محاذ پر داخل ہو چکی ہے، جہاں امریکہ نے پاناما کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہر پر چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکے، بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاناما کے صدر جوز راؤل ملینو سے ملاقات کے دوران یہ سخت پیغام دیا۔
واشنگٹن کی سخت وارننگ
امریکی وزیر خارجہ نے اپنے سرکاری دورے کے دوران پاناما کینال کا معائنہ کیا اور پسِ پردہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں چین کے ساتھ پاناما کے اقتصادی تعلقات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ امریکی حکام کے مطابق، چین کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے، لاجسٹک معاہدے اور بندرگاہی سرگرمیاں واشنگٹن کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی بروس نے بیان میں کہا، "پاناما کو یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ چین کی مداخلت 1977 کے پاناما کینال معاہدے کے اصولوں کے منافی ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو امریکہ اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوگا۔”
صدر ملینو کا سخت ردعمل
پاناما کے صدر جوز راؤل ملینو نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے پریس بریفنگ میں کہا، "پاناما نہر پاناما کی ملکیت ہے، اور کسی غیر ملکی طاقت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہمارے فیصلے طے کرے۔”ملینو نے مزید کہا کہ پاناما چین سمیت تمام اقتصادی شراکت داروں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے گا اور کسی بھی فریق کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے تجویز دی کہ تکنیکی مذاکرات کے ذریعے امریکی خدشات کو دور کیا جا سکتا ہے، تاہم واشنگٹن نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔
امریکی مداخلت کے خلاف عوامی ردعمل
مارکو روبیو کے دورے کے خلاف پاناما میں شدید عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا۔ دارالحکومت میں سینکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے "پاناما فروخت کے لیے نہیں” کے نعرے لگاتے ہوئے امریکی مداخلت کی مذمت کی۔ بعض مظاہرین نے روبیو کے پتلے کو بھی نذرِ آتش کیا۔ٹریڈ یونین لیڈر ساؤل مینڈیز نے کہا، "ہم پاناما پر کسی نئی امریکی اجارہ داری کو قبول نہیں کریں گے۔ ہمارا ملک کسی کے اثر و رسوخ میں آنے کے لیے نہیں بنا۔”
نہری کشیدگی کے درمیان ہجرت پر تعاون
دوسری جانب، پاناما نے امریکہ کو غیر قانونی ہجرت کو کنٹرول کرنے میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔ صدر ملینو نے امریکہ کو تارکین وطن کے ٹرانزٹ پوائنٹ پر خصوصی رسائی دینے کی تجویز دی، جس کے جواب میں ٹرمپ انتظامیہ نے 6 ملین ڈالر کی امداد دینے کا عندیہ دیا۔ اس اقدام سے وینزویلا، ایکواڈور اور ہیٹی سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
