عالمی رہنماؤں کا امریکہ سے ڈبلیو ایچ او سے دستبرداری کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کو WHO سے دستبردار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈالیں۔
سفارت کاروں کے ساتھ ایک بند کمرہ اجلاس میں ٹیڈروس نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے تنظیم کو خیرباد کہہ دیا، تو وہ عالمی بیماریوں کے پھیلاؤ سے متعلق اہم ڈیٹا اور سائنسی تعاون سے محروم ہو جائے گا، جو صحت عامہ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
امریکہ WHO کا سب سے بڑا مالی معاون رہا ہے، جس نے 2024-25 کے مالی سال میں تقریباً 988 ملین ڈالر فراہم کیے، جو تنظیم کے 6.9 بلین ڈالر کے بجٹ کا 14 فیصد بنتا ہے۔
WHO کے مالیاتی ڈائریکٹر جارج کیریاکو نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے فنڈنگ ختم ہو گئی، تو تنظیم کو 2026 کے وسط تک شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے ہی امریکی حکام کو WHO سے ہر قسم کے تعاون کے فوری خاتمے کی ہدایت کر دی ہے، جس کے باعث تنظیم کے کئی اہم صحت پروگراموں اور ریسرچ پراجیکٹس کو فنڈنگ میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ٹیڈروس نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا: کہ "ہمیں امید ہے کہ دیگر ممالک اس فنڈنگ کے خلا کو پُر کرنے کے لیے اپنا تعاون بڑھائیں گے، تاکہ عالمی صحت کے بحرانوں سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔”
واشنگٹن کا باضابطہ انخلا 22 جنوری 2026 کو نافذ العمل ہوگا، لیکن امریکی انتظامیہ پہلے ہی WHO سے تعلقات منقطع کر چکی ہے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ امریکہ نے ایسا قدم اٹھایا ہو—2020 میں، ٹرمپ نے WHO کی فنڈنگ روک دی تھی، جس کے بعد جرمنی سب سے بڑا ڈونر بن گیا تھا۔ تاہم، اگر امریکہ مستقل طور پر نکل جاتا ہے، تو دیگر ممالک کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
WHO کے 194 رکن ممالک اپنی اقتصادی صلاحیت کے مطابق مالی تعاون کرتے ہیں، لیکن امریکہ کی ممکنہ علیحدگی تنظیم کے مالی استحکام اور عالمی صحت کے بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔