عمران خان کا آرمی چیف کو خط: عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور بنیادی حقوق کی بحالی کا مطالبہ

0

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے ملک میں آئینی حقوق، عدالتی احکامات پر عمل درآمد، اور سیاسی انتقام کے خاتمے کے لیے اقدامات کی درخواست کی ہے۔

خط میں کیا مطالبات کیے گئے؟

ذرائع کے مطابق، عمران خان نے اپنے خط میں درج ذیل نکات پر زور دیا ہے:

  1. عدالتی احکامات پر عمل درآمد: عمران خان نے نشاندہی کی کہ مختلف عدالتوں نے ان کے اور پی ٹی آئی کے حق میں فیصلے دیے، مگر ان پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوج کی زیر قیادت ریاستی ادارے آئینی دائرے میں رہ کر عدالتی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
  2. بنیادی حقوق کی بحالی: عمران خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کو غیر قانونی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور تشدد کا سامنا ہے، جو آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے فوجی قیادت سے مطالبہ کیا کہ سیاسی انتقام کی پالیسی ختم کی جائے۔
  3. آزاد و منصفانہ انتخابات: خط میں عمران خان نے فوجی قیادت کو یاد دلایا کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرے اور عوام کو آزادانہ حقِ رائے دہی دیا جائے۔
  4. میڈیا پر عائد پابندیوں کا خاتمہ: عمران خان نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کا مؤقف عوام تک پہنچنے نہیں دیا جا رہا اور میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے درخواست کی کہ میڈیا کو آزادی دی جائے تاکہ عوام حقیقت پر مبنی معلومات حاصل کر سکیں۔

سیاسی پس منظر

یہ خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کی جماعت کو مختلف قانونی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے متعدد فیصلے دیے، جن میں پی ٹی آئی کے حق میں ریلیف دیا گیا، مگر عمران خان کا مؤقف ہے کہ ان پر عمل درآمد میں تاخیر کی جا رہی ہے۔

پی ٹی آئی کا مؤقف

پی ٹی آئی کے ترجمان نے اس خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے یہ خط ایک آئینی اقدام کے طور پر لکھا ہے اور ان کا مقصد فوج سے تصادم نہیں، بلکہ آئین و قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرنا ہے۔

حکومتی و عسکری ردعمل

تاحال فوجی قیادت یا حکومت کی جانب سے اس خط پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، مگر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے براہِ راست آرمی چیف کو خط لکھنا ملک کی سیاست میں ایک نیا موڑ لا سکتا ہے۔

خط میں ذکر کیے گئے 6 اہم نکات

عمران خان نے اپنے خط میں سیاسی اور آئینی مسائل کے حوالے سے چھ اہم نکات پر زور دیا:

  1. انتخابات میں دھاندلی: عمران خان نے 8 فروری کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ ان انتخابات میں منی لانڈرنگ کرنے والوں کے ساتھ مل کر نتائج کو متاثر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں عوام اور اداروں میں دوری پیدا ہوئی۔
  2. آئینی ترمیم: عمران خان نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس کا مقصد عدالتی نظام کو تہس نہس کرنا ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے انتخابات اور مقدمات میں فراڈ کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔
  3. پیکا قانون: عمران خان نے پیکا قانون کو کالا قانون قرار دیا اور کہا کہ اس کے ذریعے سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئیں، جس سے اظہار رائے کی آزادی پر اثر پڑا۔ اس قانون کی وجہ سے آئی ٹی انڈسٹری کو 2 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔
  4. سیاسی انتقام: عمران خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کو کرش کرنے کے لیے تمام اداروں کو استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے ان کے اصل کام سے توجہ ہٹ گئی ہے۔
  5. پولیس اور عدلیہ پر دباؤ: عمران خان نے کہا کہ جیل میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہونے دیا جا رہا اور پولیس نے بشری بی بی سے تفتیش کرنے کی کوشش کی تو کسی نامعلوم قوت نے اس میں رکاوٹ ڈالی۔
  6. فوجی شہداء کی قربانی: عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا مغربی بارڈر حساس ہے اور فوجی شہداء ہماری جان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی قیادت کو سیاست میں مداخلت سے بچنا چاہیے تاکہ ملک میں سیاسی استحکام بحال ہو۔

عمران خان کا پیغام

عمران خان نے اپنے خط میں واضح طور پر کہا کہ موجودہ حالات میں پالیسیز میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج ملک کی ہے کسی ایک شخص کی نہیں اور جب صلح کی باتیں یا اسٹیبلشمنٹ سے معاملات بہتر ہونے کی بات آتی ہے تو حکومت کو نیندیں اڑ جاتی ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.