امریکہ، یوکرین اور روس اگلے ہفتے سعودی عرب میں امن مذاکرات کریں گے: ٹرمپ
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ، یوکرین اور روس کے اعلیٰ حکام اگلے ہفتے سعودی عرب میں ملاقات کریں گے تاکہ روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی حل تلاش کیا جا سکے۔
ٹرمپ کے مطابق، اس اجلاس میں تینوں ممالک کے صدور ولادیمیر پیوٹن، ولادیمیر زیلنسکی، اور جو بائیڈن شریک نہیں ہوں گے، تاہم ان کے اعلیٰ سطحی نمائندے مذاکرات میں حصہ لیں گے۔
یہ اعلان ٹرمپ، روسی صدر پیوٹن اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ الگ الگ فون کالز کے بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے کہاکہ "یہ جنگ ایک شیطانی، خونی جنگ ہے، اور ہم اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی پیوٹن کے ساتھ بات چیت تعمیری رہی اور روسی صدر نے امن معاہدے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ ان کے بقول، کہ "ہم نے ممکنہ حل کی طرف ایک طویل سفر طے کر لیا ہے۔ پیوٹن جنگ بندی پر بات کرنے کے لیے تیار نظر آئے۔”
سعودی عرب، جو پہلے بھی ماسکو اور کیف کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کی کوششوں میں ثالثی کر چکا ہے، ان مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔سعودی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاض ایک غیر جانبدار سہولت کار کے طور پر کام کرے گا۔