مادر وطن کے دفاع کی خاطر پاک فوج کے جوان اپنے خون کی قربانی دیتے چلے آرہے ہیں۔ان شہداء میں سپاہی عاطف خان شہید بھی شامل ہیں، جنہوں نے دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔
سپاہی عاطف خان شہید کے لواحقین نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہافوج میں بھر تی ہونے کا اسکو بہت شوق تھا۔والد، سپاہی عاطف خان شہید کا کہنا تھا شہادت اسکے مقدر میں تھی اور 20 نومبر 2024 کو اس نے جام شہادت نوش کیا۔ وہ بچپن سے لے کر آج تک اتنا وفادار اور مخلص رہا ہے کہ اس نے آج تک محلے میں کسی کے ساتھ لڑائی یا زیادتی نہیں کی۔
عاطف شہید کے والد نے مزید بتایا کہ اس بار جب چھٹی گزار کر گیا تو ماں کو یہی بتایا کہ موت تو اٹل حقیقت ہے، چاہے بارڈر پر ہوں یا گھر پر یہ تو آنی ہے۔ اس کی کمی مجھے ہمیشہ محسوس ہوتی ہے کیونکہ جب وہ چھٹی پر آتا تو میری مدد کرتا اور والدہ کے ساتھ ہی کھانا کھاتا تھا۔ اسکی کمی ہر وقت محسوس ہوتی ہے۔
والد سپاہی عاطف خان شہید کا کہنا تھا کہ مسجد میں جاتا تھا تو ساتھ جاتا تھا، نماز پڑھتا اور قران پاک پڑھتا۔ اسی بیٹھک میں بیٹھ کر وہ ملی نغمے سنتا تھا یا تلاوت قرآن پاک سنتا تھا۔ بیٹے کی کمی کبھی بھی پوری نہیں ہو سکتی، مگر ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی شہادت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ شہید زندہ ہیں۔ میں پاک فوج کو سلام پیش کرتا ہوں اور انکو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ان خوارج کا خاتمہ کریں اور انکا قلع قمع کریں۔
سپاہی عاطف خان شہید کے بھا ئی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہامیرا بھائی مجھ سے بہت پیار کرتا تھا۔ اس نے آج تک نہ کسی کا دل دکھایا نہ کسی کے ساتھ زیادتی کی۔وہ ایک دلیر انسان تھا، اسے ہمیشہ سے شہادت کا شوق اور جذبہ تھا۔ بھائی سے آخری بات یہی ہوئی کہ دعا کرو کہ جب تک زندگی رہے ایمان کی حالت میں رہو، اور ہمارے وطن کے لیے دعا کرو کہ اللہ اسے ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔
عاطف خان کے بھائی کا مزید کہنا تھا کہ اللہ سے دعا ہے کہ وہ میرے بھائی کی شہادت قبول فرمائے اور انکو بلند مرتبہ عطا فرمائے۔میں اپنی قوم کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ شہادت کا جذبہ پیدا کریں، اور قومی مفاد کو اپنی ذاتی مفاد پہ ترجیح دیں۔ ہماری فوج جو وطن کیلئے جانیں قربان کر رہی ہے انکو دعاؤں میں یاد رکھیں۔
