ملزم شریف اللہ کی گرفتاری میں تعاون پر پاکستان کے شکر گزار ہیں: امریکی محکمہ خارجہ

واشنگٹن : امریکی محکمہ خارجہ نے کابل ایئرپورٹ پر خودکش حملے میں فوجی اہلکاروں سمیت عام افغان شہریوں کو نشانہ بنانے والے مرکزی ملزم شریف اللہ کی گرفتاری میں تعاون پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور امریکہ کا مفاد مشترکہ ہے اور شریف اللہ کی گرفتاری میں تعاون اور شراکت داری پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔‘

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پوچھے گئے سوالات کے جواب میں یہ بات کہی۔

اس سے قبل بریفنگ کے آغاز میں اوپپنگ ریمارکس میں ترجمان محکمہ خارجہ نے بتایا کہ ’صدر ٹرمپ کے امریکہ کو محفوظ رکھنے کے وعدے کے مطابق ایبی گیٹ دہشت گرد حملے میں ملوث محمد شریف اللہ کو پاکستان میں حراست میں لیا گیا تھا، اس حملے میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ فوری انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ملزم کو امریکہ منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

صحافی جلیل آفریدی نے ترجمان سے سوال کیا کہ کیا امریکی انتظامیہ میں سے کسی نے اس نئی گرفتاری کے حوالے سے پاکستان کا سرکاری سطح پر شکریہ ادا کیا؟

جس کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس سے خطاب میں اس بات کا اعلان کیا کہ آئی ایس آئی ایس- کے (ISIS-K) کے ایک کارکن اور منصوبہ ساز کو گرفتار کیا گیا ہے جو ایبی گیٹ پر 13 امریکی فوجیوں اور 160 سے زیادہ افغان شہریوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار تھا اور اب وہ حراست میں ہے جس کے لیے ہم حکومتِ پاکستان کے شکر گزار ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ان (پاکستان) کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے محمد شریف اللہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں امریکہ کے ساتھ تعاون کیا۔ شریف اللہ کی گرفتاری نے اس بات کو ثابت کیا کہ انسدادِ دہشت گردی میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون انتہائی اہم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ مزید معلومات کے خواہشمند افراد اس کے مقدمے کی تفصیلات کے لیے محکمۂ انصاف سے رجوع کرسکتے ہیں۔‘

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے