ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو ایران کی خارجہ پالیسی پر حکم دینے کا کوئی حق نہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں عراقچی نے کہا کہ ایران پر حکم چلانے کا دور 1979 کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ختم ہوا۔ انہوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ وہ ایران کے معاملات میں مداخلت سے باز رہے کیونکہ واشنگٹن کو اس کا کوئی قانونی یا اخلاقی اختیار حاصل نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے بائیڈن انتظامیہ کے 23 بلین ڈالر کی مالی منتقلی کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جسے انہوں نے "سفاکانہ حکومت کی حمایت” قرار دیا۔ انہوں نے امریکہ کو 60,000 فلسطینیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ دنیا واشنگٹن کو اس کے اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرائے گی۔
عراقچی نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی نسل کشی اور دہشت گردی کی حمایت ختم کرے اور یمنی عوام کے خلاف وحشیانہ حملے بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔
