لندن میں سیاحتی ٹیکس متعارف کرانے پر غور، ٹورازم کی صنعت کو فروغ دینے کا منصوبہ

برطانوی دارالحکومت جلد ہی ان یورپی شہروں میں شامل ہو سکتا ہے جہاں سیاحوں سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق، لندن میں رات بھر قیام کرنے والے مہمانوں پر 5 فیصد تک کا سیاحتی ٹیکس لگانے سے سالانہ 285 ملین یورو کی آمدنی متوقع ہے، جو شہر کی مہمان نوازی کی صنعت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

حالیہ میئر کے سوالیہ سیشن کے دوران، لندن کے میئر صادق خان نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سیاح عام طور پر دیگر یورپی شہروں جیسے بارسلونا، پیرس اور برلن میں اضافی ٹیکس ادا کرنے کے عادی ہیں۔ ان شہروں میں پہلے ہی سیاحتی محصولات عوامی بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور ثقافتی تحفظ کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔

بارسلونا کا سیاحتی ٹیکس سالانہ 100 ملین یورو تک کی آمدنی فراہم کرتا ہے۔پیرس میں ہوٹل سرچارجز کے ذریعے شہری ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔

اگر یہ ٹیکس متعارف کرایا جاتا ہے تو اس سے لندن کے ٹورازم کے شعبے کو مالیاتی استحکام ملے گا، عوامی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے گا اور تاریخی و ثقافتی مقامات کی حفاظت ممکن ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ اقدام پائیدار سیاحت کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اضافی فیس عائد کرنے سے طویل مدت میں سیاحوں کی تعداد متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی لندن دنیا کے مہنگے ترین سیاحتی مقامات میں شامل ہے۔

یہ تجویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اور اس پر مزید مشاورت کی جائے گی۔ آنے والے مہینوں میں لندن کے حکام اس معاملے پر مزید تبادلہ خیال کریں گے تاکہ ممکنہ اثرات کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے