مغربی سفارتکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے ترکیہ کو F-35 جنگی جہازوں کی فروخت روکنے کی کوششیں تیز کردیں۔۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو پر ترکیہ کو F-35 اسٹیلتھ جنگی جہازوں کی فروخت روکنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیتن یاہو نے ترکیہ کے شام میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو خطرہ قرار دیتے ہوئے یہ اقدام کیا۔
دو مغربی عہدیداروں نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ نیتن یاہو نے گزشتہ دو ماہ کے دوران متعدد کالز میں F-35 کے معاملے پر امریکی وزیر خارجہ سے بات کی۔
نیتن یاہو نے نجی طور پر کہا ہے کہ وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ترکیہ کے خلاف موقف اپنانے پر آمادہ کریں گے، لیکن ابھی تک ان سے اس پر براہ راست بات چیت نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ ترکیہ F-35 پروگرام کا اہم شراکت دار تھا۔ ترکیہ کو 2019 میں روس سے ایس-400 میزائل لینے کی وجہ سے امریکہ نے اس پروجیکٹ سے خارج کر دیا تھا۔ تاہم، ترکیہ حالیہ برسوں میں اس پابندی کو ختم کرانے اور دوبارہ F-35 حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
ماہرین کے مطابق، نیتن یاہو کی یہ کوششیں خطے میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے دفاعی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ایک حکمت عملی ہیں۔ اگرچہ امریکہ نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن اسرائیلی دباؤ ترکیہ-امریکہ تعلقات میں ایک نئی رکاوٹ بن سکتا ہے
