غزہ جنگ بندی مذاکرات میں پیش رفت، قطری وزیراعظم کی تصدیق
قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اسرائیل اور حماس کے درمیان حتمی معاہدہ اب بھی ایک مشکل چیلنج بنا ہوا ہے۔
دوحہ میں ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ محمد نے کہا”ہم نے جمعرات کو ہونے والی ملاقاتوں میں پہلے کے مقابلے میں کچھ پیش رفت دیکھی ہے، لیکن سب سے اہم سوال – اس جنگ کو مکمل طور پر کیسے ختم کیا جائے – تاحال جواب طلب ہے۔”
قطری وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ بات چیت میں معمولی پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن اسرائیل اور حماس کے درمیان اب بھی مشترکہ مقصد کی کمی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس نے اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلاء کی صورت میں باقی تمام یرغمالیوں کی رہائی پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن اسرائیل جنگ کے اختتام کے بغیر یرغمالیوں کی رہائی پر زور دے رہا ہے۔
شیخ محمد نے خبردار کیا کہ”جب تک دونوں فریق مشترکہ مقصد پر متفق نہیں ہوں گے، اس جنگ کے مکمل خاتمے کا امکان بہت کم ہے۔”
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حماس ایک وسیع تر معاہدے کے لیے آمادگی کا اظہار کر رہی ہے، جو دو ریاستی حل کے امکانات کو بھی شامل کر سکتا ہے۔
فیدان نے زور دیا کہ ترکی غزہ میں دیرپا امن کے فروغ کے لیے بین الاقوامی اور دوطرفہ کوششیں جاری رکھے گا۔
ایک سینئر ترک سفارتکار کے مطابق حماس نے مستقل جنگ بندی کے لیے اپنی کوششوں کا اعادہ کیا ہے اور ملاقاتوں میں حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔