پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان میں سکھوں کے مقدس ترین عبادت گاہ ننکانہ صاحب میں گرونانک کو بھی نہ بخشا۔۔ یہاں بھارت نے 6 ڈرون حملے کئے جو ناکام بنا دیئے گئے۔۔
پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احمد شریف چوہدری نے کہا بھارت نے ننکانہ صاحب میں سکھوں کی عبادت گاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، بھارت نے 6 ڈرون سے ننکانہ صاحب پر حملہ کیا جسے ناکام بنایا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا کو پریس بریفنگ میں ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ بھارت کے پاکستان پر حملے کے وقت 57 مسافر طیارے فضا میں تھے، بھارت نے ائیرلائنز کے مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا، بھارتی حملوں میں 2 سال کی بچی نشانہ بنی اور بھارتی میڈیا اس پر جشن منارہا ہے،ہم جوابی کارروائی میں صرف بھارتی فوج کی پوسٹوں کو نشانہ بنارہے ہیں، ہم بھارتی فوج کے ان پوسٹوں کو نشانہ بناتے ہیں جہاں سے پاکستان پر فائرنگ ہو۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر حملےکیے جا رہے ہیں، بھارت میں کھلے عام مسلمانوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گردوں کو معاونت فراہم کر رہا ہے، بھارت نے غیرجانبدار سوشل میڈیا اکاؤنٹس بندکردیے، ہر کچھ سال بعد بھارت ایک جھوٹی کہانی بنا کر بیانیہ بنانا شروع کردیتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جعلی انکاؤنٹرز بھارتی قابض فوج کا معمول ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت ،امریکا ،کینیڈا اور پاکستان سمیت مختلف ممالک میں دہشت گردی میں ملوث ہے، بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا اسپانسر ہے جس کے ثبوت موجود ہیں، پاکستان میں حملوں کے لیے دہشت گردوں کو بھارت سے ٹاسک دیے جاتے ہیں، بھارتی فوج کے اہلکار ان دہشت گردوں کو کارروائی کے لیے ٹاسک دیتے ہیں، بھارتی فوج کے اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان کمیونیکشن کے ثبوت موجود ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ سب سے پہلے پہلگام واقعے کے حوالے سے بتاؤں گا، اگر پہلگام کی لوکیشن کو دیکھیں، اس کا زمینی فاصلہ 230 کلومیٹر ہے، یہ اس تناظر میں ہے کہ بھارت کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ دہشتگرد سرحد پار سے آئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پہاڑی علاقہ ہے، پہلگام میں جہاں یہ واقعہ ہوا، وہ جگہ سٹرک سے تقریباً 5.3 کلومیٹر دور ہے اور اس کا پولیس اسٹیشن سے فاصلہ 1.2 کلومیٹر ہے۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے واقعے کی ایف آئی آر سلائیڈ پر دکھاتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعہ 2 بج کر 20 منٹ پر ہوا جبکہ 2 بج کر 30 منٹ یعنی صرف 10 منٹ بعد پولیس جائے وقوع پر جاتی ہے، تفتیش کرکے واپس جاتی ہے اور مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے جبکہ ایک طرف کا راستہ 30 منٹ کا ہے، تو ایسا کرنا انسانی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر کا متن میں کہا گیا ہے کہ لوگ سرحد پار سے آئے تھے، تو 10 منٹ میں انہوں نے نتیجہ اخذ کر لیا، جبکہ مزید کہا گیا کہ اندھادھند فائرنگ کی گئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس حوالے سے سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں، اس کے بعد تقریباً 3 بجے کے بعد بھارت میں سوشل میڈیا ہینڈلز نے کہنا شروع کیا کہ پاکستان نے پہلگام پر حملہ کیا، مطلب انہیں پتا تھا کہ کیا ہوا، لیکن اس کا ثبوت کہاں ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹی وی چینلز نے بھی یہی کہنا شروع کر دیا، اس حملے میں پاکستانی دہشتگرد ملوث ہیں، یہ باتیں بار بار بتانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ بنیاد ہے، جس کی وجہ سے آج ہم فوجی صورتحال دیکھ رہے ہیں، اسی کی وجہ سے بے گناہ بچوں اور خواتین کو شہید کیا جارہا ہے۔
یفٹننٹ جنرل احمد شریف نے اس واقعے کے حوالے سے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کی گفتگو چلائی، جس میں وہ واقعے پر سوالات اٹھا رہے ہیں کہ ’یہاں پر سب سے زیادہ (بھارتی) فوج ہے، اگر کوئی پوسٹ شیئر کرے گا تو اس کو رات میں ہی اٹھالیں گے، اتنا بھارتی فوج ہے تو وہ کیا کر رہی ہے؟ ایک اور شہری نے کہا کہ منصوبہ بنا کر ایسا نہ کرو، کیا یہ سیکیورٹی کی ناکامی نہیں ہے؟
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کے پاس شہریوں کے سوالات کے کوئی جوابات نہیں تھے، اس لیے انہوں نے توجہ ہٹانے کے لیے ایسا کیا، اور انہوں نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہزاروں ٹوئٹرز ہینڈلز اور سوشل میڈیا سائٹس پر پابندی لگادی، انہوں نے پاکستان کے تمام تر ڈیجیٹل میڈیا پر بھارت میں پابندی لگادی تاکہ ان کے عوام صرف وہی سنیں، جو وہ بتانا چاہتے ہیں، بھارت کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ پہلگام واقعے میں کون ملوث ہے، یہ آپ نہیں جانتے تو آپ نے فوجی محاذ کھول لیا۔
انہوں نے سال 2000 میں چتی سنگ پورا واقعے کے حوالے سے لیفٹننٹ جنرل (ر) کے ایس گل کا بیان سنوایا، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’انہوں نے پورا منصوبہ بنایا، تمام متعلقہ معلومات جمع کی، ان کی روٹین کیا ہے، کتنے مرد اور خواتین ہیں، ہتھیار کتنے ہیں، اور اچانک ایک رات کہا کہ سارے باہر چیکنگ کے لیے آؤ، ہم نے کہا تھا اس میں بھارتی فوج ملوث تھی، جبکہ بی جے پی کی حکومت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنا چاہتی تھی۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کا ویڈیو بیان سنوانے کے بعد کہنا تھا کہ بھارت کی معصوم لوگوں کو مارنے کی تاریخ رہی ہے تاکہ سیاسی مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔
انہوں 2019 میں پلوامہ واقعے پر اُس وقت کے گورنر مقبوضہ کشمیر ستیا پال ملک کا بیان سنوایا، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اس واقعے کو انتخابات کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے کہ یہ پاکستان نے کیا اور ہمارے جوان مارے گئے اور اب انہیں ہرائیں گے اور یہ حکومت کی چالو پالیسی تھی’
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ ڈراما اور پاکستان سے سرحد پار دہشت گردی اور جہادی تنظیموں کی حمایت کے من گھڑت الزامات کی بنیاد پر فوجی کارروائی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی لیے حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی شواہد ہیں تو وہ ایک آزاد اور غیرجانبدار کمیشن میں پیش کریں، اور پھر اسے ان شواہد کا جائزہ لینے دیں، آپ کو جج، جیوری اور سزا دینے کا اختیار کس نے دیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے غیرملکی صحافیوں کو ایک بچے اور اس کے اہل خانہ کی فوٹیج دکھا کر کہا کہ ضیا مصطفیٰ کو اکتوبر 2013 میں حراست میں لیا گیا تھا، پھر اسے اکتوبر 2021 میں دہشت گرد قرار دے کر شہید کردیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح پہلگام واقعے کے دو دن کے بعد شہریوں کو دہشت گرد قرار دے کر شہید کردیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان افراد کے اہل خانہ کی گفتگو بھی حاضرین کو سنوائی جو کہہ رہے ہیں کہ دونوں بھائی مویشی ڈھونڈنے کے لیے ایل او سی کے قریب گئے تھے جنہیں بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے غیرملکی صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ جائیں اور ان حقائق کی تصدیق کریں، انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج روزانہ کی بنیاد پر معصوم شہریوں کو قتل کرکے انہیں دہشت گرد قرار دے دیتی ہے، پھر من گھڑت اور بے بنیاد الزام پاکستان پر عائد کرکے اس کا پرچار عالمی میڈیا پر کیا جاتا ہے اور پھر یہ کہتے ہیں کہ ہم حملہ کردیں گے، بھارت نے یہی کیا ہے۔