سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عدیل بن احمد الجابر کا دورہ پاکستان۔۔ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔۔
وزیراعظم کے ساتھ ملاقات میں سعودی وزیر مملکت نے پاکستان اور بھارت میں جاری جنگ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم نے بھارت کے پاکستان کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں پر سعودی وزیر مملکت کو آگاہ کیا جس کی وجہ سےکئی بے گناہ شہری بشمول خواتین اور بچوں کی شہادت واقع ہوئی اور املاک کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی بلا اشتعال اور بلا جواز جارحیت پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس جارحیت سے علاقائی امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ وزیر اعظم نے پاکستان کی بہادر افواج کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے دفاع وطن میں مثالی حوصلے اور جرات کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پر عزم ہے اور اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنے دفاع کے لیے اقدامات لینے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ وزیراعظم نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور علاقائی امن قائم کرنے کے لیے سعودی حکومت کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
سعودی وزیر مملکت نے پاکستانی شہریوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ہے۔
انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تصفیہ طلب تنازعات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
خیال رہے کہ عادل الجبیر نئی دہلی کے دورے کے بعد اسلام آباد پہنچے ہیں۔
نائب وزیراعظم سے ملاقات:
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر کی ملاقات
وزارت خارجہ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔۔ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کے مکمل دائرہ کار پر بات چیت کی گئی
دونوں رہنماؤں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں مملکت کی تعمیری سفارتی کوششوں کو سراہا
