پاکستان کے بعد اسرائیل نے بھی ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کیلئے نامزد کردیا

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے بہت اچھی بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں غزہ میں جنگ روکنے میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی اور حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے قیام کے لیے ان کی کوششیں جاری ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ بات پیر کی شب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے موقع پر کہی۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نے کہا کہ انھوں نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے اور امن کمیٹی کا ارسال کیا گیا خط بھی انھیں پیش کیا۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت امن قائم کر رہے ہیں، ایک ملک میں، ایک علاقے کے بعد دوسرے علاقے میں۔

یاد رہے کہ بینجمن نتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پیر کو ہونے والی ملاقات صدر ٹرمپ کے دوسری بار وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان تیسری ملاقات ہے۔

تاہم اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ اور ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر داغے جانے والے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے اور تباہ کرنے میں امریکی مداخلت کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حماس غزہ میں 21 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تیار ہے،’وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور وہ جنگ بندی کے حق میں ہیں۔‘

خیال رہے کہ یہ ملاقات قطر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کے لیے بلواسطہ طور پر ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دور کے بعد ہوئی ہے جو کہ بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوا تھا۔ تاہم ان مذاکرات کے رواں ہفتے جاری رہنے کا امکان ہے۔

اس موقع پر صدر ٹرمپ سے ایک صحافی نے پوچھا کہ غزہ میں امن معاہدے میں کیا چیز رکاوٹ بن رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ کوئی رکاوٹ موجود ہے۔ میرا خیال ہے کہ معاملات بہت اچھی طرح چل رہے ہیں۔‘

دونوں رہنماؤں نے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کے ممکنہ منصوبوں کے بارے میں پوچھا گیا تو امریکی صدر نے کہا کہ انھیں اسرائیل کے ہمسایہ ممالک سے تعاون حاصل ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ مل کر ایسے ممالک تلاش کر رہا ہے جو ’فلسطینیوں کو ایک بہتر مستقبل دیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر لوگ رہنا چاہتے ہیں تو وہ رہ سکتے ہیں، لیکن اگر وہ چھوڑنا چاہتے ہیں تو انہیں چھوڑنے کی اجازت ہونی چاہیے۔‘

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے