امریکی سفارت کاری کی تاریخ کی سب سے بڑی تنظیم نو، ناقدین نے عالمی خطرات کے تناظر میں اقدام کو ’غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں محکمہ خارجہ نے 1,350 سے زائد ملازمین کی بڑے پیمانے پر برطرفی شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام امریکی سفارت کاری میں "امریکہ فرسٹ” پالیسی کے تحت ایک نئی ترتیب دینے کی کوششوں کا حصہ ہے، جسے امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین اور متعدد قانون سازوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
محکمہ خارجہ کے اندرونی نوٹس کے مطابق، اس تنظیم نو کا مقصد محکمے کو ’’زیادہ مؤثر اور مرکوز‘‘ بنانا ہے۔ فارغ کیے جانے والوں میں 1,107 سول سروس ملازمین اور 246 غیر ملکی سروس کے افسران شامل ہیں، جو سب امریکہ میں تعینات تھے۔
اعلیٰ حکام کے مطابق، رضاکارانہ استعفوں سمیت کل 3,000 ملازمین کی کمی کا تخمینہ ہے، جو محکمہ خارجہ کے 18,000 ملکی عملے کا تقریباً 17 فیصد بنتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ضروری اور "نان کور” افعال کو ختم کرنا ہے تاکہ امریکی سفارت کاری کو نئی سفارتی ترجیحات پر مرکوز کیا جا سکے۔
سینیٹر ٹم کین (ڈیموکریٹ، ورجینیا) نے اس فیصلے کو "غیر معمولی لاپروائی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ”یہ وہ وقت ہے جب چین عالمی سطح پر اپنی سفارتی اور فوجی سرگرمیوں کو وسعت دے رہا ہے، روس یوکرین میں جارحیت کر رہا ہے اور مشرق وسطیٰ بحران در بحران سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں محکمہ خارجہ کو کمزور کرنا امریکہ کو غیر محفوظ بنانے کے مترادف ہے۔”
سینیٹر کرس وان ہولن (ڈیموکریٹ، میری لینڈ) نے بھی دفتر خارجہ کے باہر مظاہرہ کرنے والے افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور برطرف کیے جانے والے ملازمین سے ملاقات کی۔
واشنگٹن میں واقع محکمہ خارجہ کی عمارت میں ملازمین نے اپنے رخصت ہونے والے ساتھیوں کے لیے تالیاں بجائیں، انہیں گلے لگایا اور روتے ہوئے الوداع کہا۔ باہر موجود حامیوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا: "Thank You American Diplomats”۔
عمارت کے اندر خصوصی مراکز قائم کیے گئے تھے جہاں ملازمین سے سرکاری بیجز، لیپ ٹاپ، فون اور دیگر سامان وصول کیا گیا۔ میزوں پر ٹشو بکس اور پانی کی بوتلیں رکھی گئی تھیں، جو اس دن کے سنجیدہ اور افسردہ ماحول کی عکاسی کر رہی تھیں۔
متاثرہ ملازمین کو پانچ صفحات پر مشتمل چیک لسٹ جاری کی گئی، جس میں بتایا گیا تھا کہ شام 5 بجے کے بعد ان کی عمارت اور ای میل تک رسائی منقطع ہو جائے گی۔
یہ برطرفیاں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب امریکہ متعدد عالمی خطرات کا سامنا کر رہا ہے، جن میں شامل ہیں:
- روس اور یوکرین کی جنگ کا جاری رہنا
- غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تقریباً دو سالہ تنازع
- ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی
- چین کی دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی سفارتی اور عسکری موجودگی
تجزیہ کاروں کے مطابق، اتنے وسیع پیمانے پر تجربہ کار سفارتکاروں کی برطرفی سے امریکہ کی عالمی سطح پر گفت و شنید، بحرانوں کو قابو میں رکھنے اور خارجہ پالیسی کو مؤثر انداز میں چلانے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
