دریائے راوی،ستلج اور چناب میں طغیانی،سیلاب کا ہائی الرٹ جاری

بھارت کی طرف سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پنجاب کے تین بڑے دریاؤں چناب، راوی اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔۔

این ڈی ایم اے کے این ای او سی نے دریاؤں میں ممکنہ سیلابی صورتحال میں شدت کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا۔۔ بھارتی ڈیم تھین اپنی گنجائش کے مطابق تقریباًبھر چکا ہے جس کے سپل ویزکھلنے کے بعد 77ہزار کیوسک کا اخراج جاری ہے۔۔ بھارتی علاقوں میں جاری بارشوں اور بھارتی ڈیم سے پانی کے اخراج کے باعث دریائے راوی میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔۔

این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے روای کے بالائی علاقوں میں کوٹ نینا کے مقام پر اس وقت بہاؤ 1لاکھ90ہزارکیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔۔ 12گھنٹوں میں یہ ریلا کوٹ نینا سے جسرپہنچے گا جس کے باعث جسر کے مقام پر بہاؤ1لاکھ80ہزار کیوسک تک متوقع ہے۔۔

پیر پنجال رینج کے نالوں بشمول بین، بسنتر اور ڈیک میں بھی اونچے درجے کا بہاؤ اور سیلابی صورتحال ہے۔۔ ممکنہ بارشوں اور ڈیم سے اخراج کی صورت میں دریائے راوی کے ملحقہ علاقوں میں سیلابی صورتحال میں شدت متوقع ہے۔۔

دریائے ستلج کے بالائی علاقوں میں بھارتی ڈیموں پونگ اور بھاکھڑا سے بھی پانی کا اخراج جاری ہے۔۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر موجودہ بہاؤ1لاکھ 88ہزار 810کیوسک ہے جو کہ اگلے12گھنٹون میں 2لاکھ 20ہزار کیوسک تک پہنچ کر شدید سیلابی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔۔

بڑھتا ہوا بہاؤ اور بھارتی ڈیموں سے آنے والے سیلابی ریلے دریاؤں کے قریبی علاقوں میں سیلابی صورتحا ل پیدا کر سکتے ہیں۔دریائے چناب کے بالائی علاقوں جموں توی اور منور توی سے بھی اونچے درجے کا بہاؤپاکستان میں داخل ہو رہا ہے

دریائے چناب میں مرالہ ہیڈ ورکس پر موجودہ بہاؤ 4 لاکھ تجاوز کر گیا جو رات گیارہ بجے 6 لاکھ کیوسک تک بھی پہنچ سکتا ہے جو دریائے چناب میں شدید سیلابی صورتحال پیدا کرے گا این ڈی ایم اے کی جانب سے پیشگی الرٹ پر پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے ستلج کے قریبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر انخلاء کے لئے اقدامات جاری کر دیئے۔۔

نالا ڈیک کے  ریلے سے سیالکوٹ اور ظفروال کو ملانے  والا ہنجلی پُل سیلابی ریلے میں بہہ گیا، جس سے درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ ختم ہوگیا،کسان کھیتوں میں پانی میں پھنس گئے۔

نارروال میں ریسکیو ٹیموں نے 55 افراد کو سیلاب سے بحفاظت نکال لیا، نالا بئیں میں بھی اونچے درجےکا سیلاب ہے، دریائے راوی اور معاون نالوں میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

شکرگڑھ کے علاقے کوٹ نیناں میں بھارت سے آیا ڈیڑھ لاکھ کیوسک کا ریلا دریائے راوی میں داخل ہو گیا، جس کے باعث اونچے درجےکا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح 2 لاکھ 41 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی ہے۔

سیالکوٹ، نارروال اور شکرگڑھ میں بارش کے باعث برساتی پانی اسکولوں اور سرکاری عمارتوں میں داخل ہو چکا ہے۔ شکرگڑھ میں چھت گرنےکے واقعے میں ایک خاتون جاں بحق اور 2  بچے زخمی ہوئے ہیں۔

سیالکوٹ میں 24 گھنٹوں میں 335 ملی میٹر بارش برسنے سے کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، معمولا ت زندگی بری طرح متاثر ہیں۔

دریائے ستلج میں بھی اونچے درجےکے سیلاب کی صورتحال ہے۔ ضلع بہاولپور کی 3 تحصیلوں خیر پورٹامیوالی، بہاولپور اور احمد پور شرقیہ کے بیٹ کے علاقوں میں سیلابی پانی تیزی سے پھیل رہا ہے، جہاں فصلیں، گھر اور اسکول زیر آب آچکے ہیں۔

بہاولنگر  میں دریائے ستلج  پر بھوکاں پتن اور بابا فرید پل پر پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔ تحصیل منچن آباد، بہاولنگر  اور چشتیاں میں متعدد دیہات  اور ہزاروں ایکڑ فصلیں زیر آب آگئی ہیں، ریسکیو  ٹیمیں متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔

حافظ آباد میں ہیڈ قادرآباد کے مقام پر پانی کی سطح بڑھنے کے باعث 6 فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیےگئے ہیں، جہاں کشتیوں اور امدادی سامان کا بندوبست کر دیا گیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے