بھارت سے آنے والے سیلابی ریلے اور بارشوں سے پنجاب میں تباہی پھیل گئی۔۔ کئی شہروں کو بند توڑ کر بچایا گیا تاہم درجنوں شہروں میں سیلابی پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا۔۔
ہزاروں ایکڑ پر تیار فصلیں زیر آب آ گئیں۔۔ حکومت پنجاب نے لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔۔
سیلاب کے باعث وزیر آباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاءالدین، بہاول نگر، سیال کوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت کئی علاقوں میں دیہات سیلاب کے گھیرے میں آگئے، کئی مقامات پر عارضی بند ٹوٹ گئے۔
دریائےچناب میں سیلاب سے پنجاب میں سیکڑوں دیہات زیر آب آگئے، سرگودھا میں کوٹ مومن کےمتعدد علاقوں میں پانی داخل ہونے سے فصلوں کو نقصان پہنچا جبکہ شہریوں کو بھی نقل مکانی کرنی پڑی۔
وزیر آباد میں نالہ پلکھو اوور فلو ہونے سے16 دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، ملتان میں دریا کنارےآباد جلال پور پیروالا کے 18 دیہات میں بھی پانی داخل ہوگیا جس سے کپاس، گنا اور چاول کی فصلیں تباہ ہوگئیں، دریائے چناب کا سیلابی ریلا اگلے 24 گھنٹے میں جھنگ اوراگلے 2 روز میں ملتان سے گزرے گا۔
منڈی بہاءالدین کی تحصیل پھالیہ کے 69 دیہات اور مواضع زیرآب آگئے، متعدد متاثرہ علاقوں کا زمینی راستہ منقطع بھی منقطع ہوگیا، حافظ آباد کےدرجنوں دیہات زیر آب آنے سے دھان اور چارے کی فصل متاثر ہوئی، متاثرین کی مال مویشیوں کےساتھ نقل مکانی جاری بھی جاری ہے۔
دریائے ستلج کے بپھرنے سے بہاول نگر کی کئی بستیاں ڈوب گئیں، سیکڑوں ایکڑ رقبے پر کپاس اور چاول سمیت کئی فصلیں سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئیں۔
بورے والا میں بھی کئی دیہات زیر آب آگئے، کچھ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت گھر بار چھوڑ کر دریا کنارے سڑکوں پر آگئے، بہاولپور میں دریائے ستلج پر بنے 3 بند ٹوٹنے سے قریبی بستیوں میں پانی داخل ہوگیا، مقامی آبادی ضروری سامان کے ساتھ ریلیف کیمپ منتقل ہوگئی۔
دریائے چناب میں چنیوٹ برج پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہورہا ہے، چنیوٹ برج پر پانی کا بہاو 6 لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چنیوٹ برج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
