غزہ میں جنگ بندی: اسرائیلی اور فلسطینیوں کا جشن

غزہ میں جنگ بندی: اسرائیلی اور فلسطینیوں کا جشن

شرم الشیخ/غزہ/یروشلم — غزہ میں جاری جنگ بندی کے بعد اسرائیلی اور فلسطینیوں نے امن کی بحالی کی امید کے ساتھ جشن منایا ہے۔

پیر کے روز حماس نے غزہ میں موجود 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں رہا کیا، جو ایک تاریخی معاہدے کا حصہ ہے۔

تل ابیب میں 65 ہزار سے زائد اسرائیلی شہری "یرغمالیوں کے اسکوائر” میں جمع ہوئے، جہاں ایک فوجی ہیلی کاپٹر آزاد کیے گئے یرغمالیوں کو لے کر قریبی اسپتال کی جانب روانہ ہوا۔ عوام نے خوشی کے نعرے لگائے اور خاندانی ملاپ کے مناظر بڑی اسکرینوں پر براہِ راست نشر کیے گئے۔

ادھر جنوبی غزہ کے شہر خان یونس اور رام اللہ میں بھی ہزاروں فلسطینیوں نے اپنے رہائی پانے والے قیدیوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ ان میں سے کئی کو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد آزادی ملی۔
اقوام متحدہ کے مطابق رہا ہونے والوں میں 22 نابالغ فلسطینی بھی شامل ہیں جنہیں بغیر کسی مقدمے کے حراست میں رکھا گیا تھا۔

دو سال طویل جنگ کے بعد غزہ کے بیشتر علاقے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، 68 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ "غزہ کے 2.1 ملین عوام اب بھی زندگی بچانے والی امداد کے منتظر ہیں، ہمیں فوری طور پر امداد پہنچانی ہوگی۔”

امدادی قافلے غزہ میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں اور اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں خوراک، پانی اور طبی سامان کی فراہمی میں تیزی لائی جائے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے