واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو وائٹ ہاؤس میں یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات سے چند گھنٹے پہلے اشارہ دیا کہ وہ ممکنہ طور پر کیف کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹوماہاک کروز میزائل جلد یا بڑی تعداد میں فراہم کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں — ایک ایسا ہتھیار جس کی بحث نے حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر کشیدگی پیدا کی ہے۔
ٹرمپ نے اس سے ایک دن قبل روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ایک طویل فون کال کی تھی اور اس ملاقات کے بعد انہوں نے پوٹن سے دوبارہ ملاقات کے امکان کا اعلان کیا—بوڈاپیسٹ میں۔ پوٹن نے خبردار کیا تھا کہ ٹوماہاکز کی فراہمی سے امریکا اور روس کے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور امن کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے بھی پوٹن کی تشویش پر کوئی خاطرخواہ نظر ثانی دکھائی، جس سے ٹوماہاک فراہمی کے بارے میں غیر یقینی پیدا ہو گئی۔
ٹرمپ نے کہا کہ "ہمیں بھی ان (ٹوماہاکز) کی ضرورت ہے” اور واشنگٹن اپنی عسکری ذخائر خالی نہیں کر سکتا — اس کے علاوہ ٹوماہاکز کی تعداد محدود ہے اور یوکرین کے پاس روایتی لانچ پلیٹ فارمز (بحری جہاز/آبدوزیں) موجود نہیں، اس لیے لاجسٹک چیلنجز بھی حائل ہیں۔ ماہرین نے بھی اس بات کی نشاندھی کی ہے کہ اگرچہ ٹوماہاکز یوکرین کی ضربتی صلاحیت بڑھا سکتے ہیں، مگر ان کی فراہمی سے روس کی طرف سے خطرناک ردِعمل اور سفارتی قیمتیں وابستہ ہیں۔
زیلنسکی نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ ٹوماہاکز یوکرین کو ایسے اہداف پر ضرب لگانے کی صلاحیت دیں جو روسی گہرائی میں واقع اہم فوجی تنصیبات اور توانائی کے اہداف کو نشانہ بنا سکیں، تاکہ روس کو مذاکرات کے لیے جمایا جا سکے۔ یوکرینی قیادت کا موقف رہا ہے کہ اس قسم کی صلاحیت روسی قیادت کو امن مذاکرات کی طرف مجبور کر سکتی ہے۔
