غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے امریکی ایلچی اسرائیل پہنچ گئے

غزہ میں ہلاکتوں کی تصدیق شدہ تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر گئی، ملبے سے مزید لاشیں برآمد

تل ابیب — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو خصوصی ایلچی پیر کے روز اسرائیل پہنچ گئے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کو مضبوط بنانے کے لیے اسرائیلی قیادت سے بات چیت کر سکیں۔ یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب جنگ بندی کے پہلے ہی دن شدید تشدد کے واقعات نے اس معاہدے کو سخت آزمائش میں ڈال دیا۔

اتوار کے روز اسرائیلی افواج نے غزہ میں متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے، جن میں درجنوں فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے الزام لگایا کہ حماس کے عسکریت پسندوں نے دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے انسانی امداد کی ترسیل عارضی طور پر روک دی تھی، تاہم بعد ازاں جنگ بندی پر عمل درآمد دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک کے مطابق، اسرائیل نے غزہ میں تباہ شدہ علاقوں تک امدادی سامان کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنی امداد پہنچائی گئی۔

صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو سے خطے کی صورتحال پر تفصیلی ملاقات کی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ منگل کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وانس اور دوسری خاتون اوشا وانس بھی اسرائیل کا دورہ کریں گے اور اعلیٰ سطحی بات چیت کریں گے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے حماس کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی افواج کے خلاف کسی بھی کارروائی کی "بہت بھاری قیمت” چکانی پڑے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے