جنگ بندی کے باوجود غزہ میں امدادی صورتحال بدستور تباہ کن ہے، ڈبلیو ایچ او

جنگ بندی کے باوجود غزہ میں امدادی صورتحال بدستور تباہ کن ہے، ڈبلیو ایچ او

غزہ  — عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں انسانی امداد کی صورتحال تباہ کن ہے اور علاقے میں پہنچنے والی امداد کی مقدار میں بہت کم بہتری آئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ غزہ میں خوراک اور طبی امداد کی شدید کمی ہے۔
انہوں نے بتایا “صورتحال اب بھی تباہ کن ہے کیونکہ جو امداد داخل ہو رہی ہے وہ ناکافی ہے … بھوک میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی کیونکہ دستیاب خوراک انتہائی کم ہے۔”

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی عدالت انصاف نے حال ہی میں اپنی مشاورتی رائے میں کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں امدادی سامان کی فراہمی کی اجازت دینا لازمی ہے، اور اس پر عائد پابندیاں بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔

غزہ میں جمعرات کو فلسطینی شہری ایک خیراتی باورچی خانے سے کھانا وصول کرتے دکھائی دیے — جو اس امر کی واضح علامت ہے کہ مقامی سطح پر بھوک اور قلت ابھی تک برقرار ہے۔

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے مطابق، جنگ بندی کے بعد روزانہ اوسطاً 560 ٹن خوراک غزہ پہنچ رہی ہے، تاہم یہ خطے کی ضروریات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
ترجمان عبیر عطیفہ کے مطابق “ہم ابھی بھی ضرورت سے بہت پیچھے ہیں، لیکن جنگ بندی نے ایک محدود موقع فراہم کیا ہے اور ہم امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے سرحدی راستے بند کرنے اور امدادی سامان روکنے کے باعث غزہ کے کئی علاقوں میں قحط کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ قحط کے مکمل خاتمے کے لیے وقت درکار ہوگا اور تمام کراسنگ پوائنٹس کے کھولنے پر زور دیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے