ڈبلن — آئرلینڈ میں آج ہونے والے صدارتی انتخابات میں بائیں بازو کی آزاد امیدوار کیتھرین کونولی کی شاندار کامیابی کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جنہوں نے نوجوان نسل اور اصلاحات کے حامی ووٹروں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر لی ہے۔
حتمی رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، کونولی کو 55 فیصد ووٹ ملنے کی توقع ہے جبکہ ان کی حریف، سابق کابینہ وزیر ہیدر ہمفریز کو 35 فیصد حمایت حاصل ہے۔
68 سالہ کونولی، جو پیشے کے اعتبار سے ماہرِ نفسیات اور وکیل ہیں، آئرش سیاست میں ایک نسبتاً نئی لیکن تیزی سے ابھرتی ہوئی شخصیت ہیں۔ وہ برابری، معاشرتی انصاف، اور آئرلینڈ کی غیرجانبداری کی پالیسی کی پُرجوش حامی سمجھی جاتی ہیں۔
ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے بیانات — جن میں جرمنی کے فوجی اخراجات کا موازنہ نازی دور سے کرنا اور برطانیہ و امریکہ پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگانا شامل ہے — یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
تاہم، نوجوان ووٹرز کے درمیان وہ صاف گوئی، سماجی انصاف کے بیانیے، اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مہم کے باعث انتہائی مقبول ہیں۔ معروف فنکاروں اور موسیقاروں، جن میں Kneecap اور Mary Wallopers شامل ہیں، نے بھی ان کی حمایت کی ہے۔
اگر کونولی منتخب ہوتی ہیں تو وہ موجودہ صدر مائیکل ڈی ہِگنس کی جگہ آئرلینڈ کی 10ویں صدر ہوں گی۔ ان کی کامیابی حکومت کے لیے ایک سیاسی دھچکہ اور بائیں بازو کی جماعتوں — Sinn Féin، Labour، Social Democrats، People Before Profit، Greens — کے لیے ایک تاریخی اتحاد کی علامت ہوگی۔
انتخابات میں کم ٹرن آؤٹ اور خراب ووٹوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، کیونکہ تقریباً نصف ووٹرز کا کہنا ہے کہ وہ کسی امیدوار سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں۔
کیتھرین کونولی نے کہا کہ وہ کامیابی کی صورت میں آفس کی آئینی حدود کا احترام کریں گی، لیکن ساتھ ہی رہائش کے بحران، صحت کے نظام، اور خارجہ پالیسی پر اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی۔
پولنگ صبح 7 بجے شروع ہوئی اور رات 10 بجے اختتام پذیر ہوئی، جب کہ نتائج ہفتہ کو متوقع ہیں۔ ملک بھر میں تقریباً 36 لاکھ ووٹرز نے اپنے ووٹ ڈالے۔
