واشنگٹن/کاراکس — وینزویلا اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے میں فوجی تناؤ کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ نے اپنے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو وینزویلا کے قریب تعینات کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس فیصلے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت طیارہ بردار جہاز کے ساتھ پانچ تباہ کن جنگی جہازوں پر مشتمل حملہ آور بیڑا بھی روانہ کیا جائے گا۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پانیل نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام "قومی سلامتی، خطے میں نگرانی، اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام” کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق، امریکی جنوبی کمانڈ (US Southern Command) نے اپنے آپریشنل فریم ورک کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ خطے میں "کسی بھی غیر متوقع خطرے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔”
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس وقت بھی تقریباً 6,000 امریکی میرینز اور سیلرز کیریبین اور لاطینی امریکہ کے مختلف مقامات پر موجود ہیں۔ نئے بیڑے کی تعیناتی سے خطے میں مزید 4,500 اہلکار شامل ہو جائیں گے، جس سے امریکی فوجی موجودگی نمایاں طور پر بڑھ جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق، یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ فی الحال بحیرۂ روم میں تعینات ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ لاطینی امریکہ کب تک پہنچے گا۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق، جہاز کی نقل و حرکت کو ’’سکیورٹی وجوہات‘‘ کے تحت خفیہ رکھا جا رہا ہے۔
ادھر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے اس اقدام کو "جنگی اشتعال انگیزی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا "نئی جنگ چھیڑنے کی سازش کر رہا ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا امن کے راستے پر قائم رہے گا اور کسی کو بھی علاقے کا استحکام برباد کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی تازہ عسکری تیاریوں نے کیریبین خطے میں طاقت کے توازن کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے، جب کہ لاطینی امریکی رہنماؤں نے بھی امریکی فوجی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
