واشنگٹن / بیجنگ – امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان ٹک ٹاک کی ملکیت کی منتقلی سے متعلق حتمی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت یہ ایپ اب امریکی سرمایہ کاروں کے کنٹرول میں چلی جائے گی۔
اتوار کو CBS کے پروگرام "فیس دی نیشن” میں گفتگو کرتے ہوئے بیسنٹ نے کہا کہ "ہم ٹک ٹاک پر ایک حتمی ڈیل پر پہنچ گئے ہیں، تمام تفصیلات مکمل کر لی گئی ہیں اور دونوں رہنما — ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ — آئندہ ہفتے جنوبی کوریا میں ملاقات کے دوران اس لین دین کو باضابطہ طور پر حتمی شکل دیں گے۔”
سکاٹ بیسنٹ کے مطابق، ٹک ٹاک کا یہ معاہدہ امریکہ اور چین کے درمیان ایک وسیع تجارتی فریم ورک کا حصہ ہے، جس پر دونوں ممالک نے ابتدائی اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود لین دین کے تجارتی پہلو کا حصہ نہیں تھے بلکہ ان کا کام چینی حکومت سے اس ڈیل کی منظوری حاصل کرنا تھا، جو اب مکمل ہو چکی ہے۔
ملکیت کی نئی تقسیم
رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کی کل مالیت 14 ارب ڈالر ہے۔
-
امریکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے پاس 65 فیصد حصص ہوں گے۔
-
چینی کمپنی بائٹ ڈانس اور دیگر سرمایہ کاروں کا حصہ 20 فیصد سے کم رکھا گیا ہے۔
-
کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں 7 میں سے 6 نشستیں امریکی سرمایہ کاروں کے پاس ہوں گی۔
ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت، ٹک ٹاک کے الگورتھم اور ڈیٹا سیکیورٹی کی نگرانی بھی نئے امریکی بورڈ کے سپرد کر دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق نئے امریکی سرمایہ کاروں میں روپرٹ مرڈوک (میڈیا ٹائیکون) اور لیری ایلیسن (اوریکل کے بانی) شامل ہو سکتے ہیں، جب کہ ٹرمپ کے صاحبزادے بیرن ٹرمپ کو بھی بورڈ کے ممکنہ رکن کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سابق صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت (2020) میں ٹک ٹاک پر قومی سلامتی کے خدشات کے باعث پابندی لگانے کی دھمکی دی تھی۔
2024 میں امریکی کانگریس نے اس ایپ پر پابندی کی منظوری دی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے اسے متعدد بار مؤخر کرتے ہوئے ملکیت کی منتقلی کے ذریعے حل نکالنے پر کام جاری رکھا۔
صدر ٹرمپ اس وقت ایشیائی دورے پر ہیں اور ملائیشیا میں آسیان سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد جمعرات کو شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنما سویا بین، زرعی تجارت، فینٹینیل بحران اور چینی درآمدات پر 20 فیصد محصولات سے متعلق امور پر بھی گفتگو کریں گے۔
