بیروت — لبنان کے صدر جوزف عون نے فوج کے کمانڈر کو ہدایت کی ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں کسی بھی اسرائیلی مداخلت یا دراندازی کا بھرپور مقابلہ کریں۔
یہ ہدایت ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب اسرائیلی افواج نے جمعرات کی صبح لبنانی سرحد عبور کرتے ہوئے بلیدہ گاؤں میں ایک شخص کو ہلاک کر دیا۔
ایوانِ صدر کے جاری کردہ بیان کے مطابق، صدر عون نے آرمی چیف سے ملاقات کے دوران کہا کہ "فوج لبنانی سرزمین کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے آزاد کرائے گئے جنوبی علاقے میں کسی بھی اسرائیلی دراندازی کا فوری اور مؤثر جواب دے۔”
اگرچہ نومبر 2024 کی حزب اللہ-اسرائیل جنگ بندی تاحال نافذ العمل ہے، تاہم اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے کم از کم پانچ علاقوں میں موجود ہیں اور ان کے فضائی حملوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی (NNA) کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے جمعرات کی صبح تقریباً 1:30 بجے بلیدہ گاؤں میں گھس کر میونسپلٹی عمارت پر دھاوا بولا، جہاں ایک سرکاری ملازم ابراہیم سلامہ موجود تھا۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں نے سلامہ کو ہلاک کیا، اور چھاپہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس کے بعد فوجیں طلوعِ آفتاب سے قبل پیچھے ہٹ گئیں۔
مزید برآں، سرحدی گاؤں ادیسہ میں اسرائیلی افواج نے فجر کے وقت ایک مذہبی ہال کو دھماکے سے تباہ کر دیا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حالیہ حملوں میں حزب اللہ کے عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے، تاہم لبنانی حکومت نے ان حملوں کو خودمختاری کی خلاف ورزی اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی پامالی قرار دیا ہے۔
