اسرائیل نے مزید 30 فلسطینیوں کی لاشیں غزہ کے حوالے کر دیں

اسرائیل نے حماس کے 3 مغویوں کی باقیات کے بدلے 45 فلسطینیوں کی لاشیں واپس کر دیں

غزہ — اسرائیل نے انسانی باقیات کے تبادلے کے معاہدے کے تحت مزید 30 فلسطینیوں کی لاشیں غزہ حکام کے حوالے کر دی ہیں۔

غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس میں قائم نصر میڈیکل کمپلیکس کے مطابق، یہ لاشیں اسرائیلی یرغمالیوں کی باقیات کے بدلے موصول ہوئیں۔

رواں ماہ مصر کی ثالثی میں طے پانے والے انسانی باقیات کے تبادلے کے معاہدے کے تحت، ہر ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش کے بدلے 15 فلسطینیوں کی لاشیں غزہ کو واپس کی جا رہی ہیں۔

گزشتہ روز حماس نے دو اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں واپس کی تھیں، جس کے بعد مجموعی طور پر 225 فلسطینیوں کی لاشیں اب تک غزہ کے حکام کے حوالے کی جا چکی ہیں۔

ادھر اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اب بھی 11 اسرائیلیوں کی لاشیں غزہ میں موجود ہیں، جنہیں واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، غزہ کی صورتحال بدستور سنگین ہے اور انسانی حقوق کے ادارے لاشوں کے تبادلے کے عمل کو فریقین کے درمیان ایک نایاب سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

معاہدے کی تفصیل

  • مقام: مصر (ثالثی کے تحت)

  • شرائط: ہر ایک اسرائیلی لاش کے بدلے 15 فلسطینی لاشوں کی حوالگی

  • اب تک حوالگی: 225 فلسطینی لاشیں

اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی میں لاشوں کے تبادلے کا یہ عمل جنگی اخلاقیات اور انسانی حقوق کے احترام کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، غزہ میں جنگ بندی اور امداد کی فراہمی کے بغیر دیرپا امن ممکن نہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے