تنزانیہ: متنازعہ صدارتی انتخابات کے خلاف مظاہرے شدت اختیار کرگئے، ہلاکتوں کی تعداد 700 سے تجاوز کرگئی

تنزانیہ: متنازعہ صدارتی انتخابات کے خلاف مظاہرے شدت اختیار کرگئے، ہلاکتوں کی تعداد 700 سے تجاوز کرگئی

ڈوما — تنزانیہ میں متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد ملک بھر میں پھوٹنے والے پرتشدد مظاہروں نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 700 سے زائد ہو گئی ہے۔

اپوزیشن جماعت کے ترجمان کے مطابق، صرف دارالسلام میں 350 اور موانزا میں 200 سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار پارٹی کارکنان نے اسپتالوں اور طبی مراکز سے لاشوں کی گنتی کے بعد جمع کیے۔

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تصدیق کی ہے کہ کم از کم 100 افراد کی ہلاکتیں مصدقہ طور پر ثابت ہو چکی ہیں۔

حکومت نے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں فوج تعینات کر دی ہے، جبکہ انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل اور کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق، مشتعل مظاہرین نے دارالسلام ایئرپورٹ پر دھاوا بول دیا، بسوں، پیٹرول پمپس اور پولیس اسٹیشنز کو آگ لگا دی، اور کئی پولنگ مراکز تباہ کر دیے۔

حالیہ انتخابات میں صدر سامیہ سُلوحو حسن نے 96.99 فیصد ووٹ حاصل کیے، تاہم دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے امیدواروں کو انتخابی دوڑ سے باہر کر دیا گیا، جس کے باعث انتخابی عمل پر دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی نتائج کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنزانیہ میں جاری ریاستی جبر، میڈیا پر پابندیوں اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکا نے اپنے شہریوں کو تشدد سے متاثرہ علاقوں میں رہنے یا نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بحران مشرقی افریقہ میں جمہوریت کے استحکام کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
اگر حالات قابو میں نہ آئے تو اس کے اثرات کینیا، یوگنڈا اور روانڈا جیسے ہمسایہ ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے