اسلام آباد — پاکستان سپورٹس بورڈ (PSB) نے پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (PWF) سے وابستہ متعدد کھلاڑیوں اور عہدیداروں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) اور انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (ITA) کی جانب سے جاری تحقیقات کے بعد سامنے آیا، جن میں کئی افراد کے خلاف "آپریشن جاسمین” کے تحت ڈوپنگ خلاف ورزیوں کی تصدیق ہوئی۔
تحقیقات کے مطابق، 2021 سے جاری کیسز میں متعدد کھلاڑیوں نے ڈوپ ٹیسٹ سے بچنے کی کوشش کی یا ان کے نمونے بعد میں مثبت آئے۔
ان واقعات کے نتیجے میں کھیلوں کی ثالثی عدالت (CAS) نے 2025 کے اوائل میں ان کھلاڑیوں کے خلاف پابندیوں کو برقرار رکھا، جس کے بعد پاکستان سپورٹس بورڈ نے باضابطہ قومی سطح پر کارروائی کا فیصلہ کیا۔
پی ایس بی کی جانب سے جن افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں شامل ہیں:
-
شرجیل بٹ
-
عبدالرحمن
-
غلام مصطفیٰ
-
فرحان مجید
-
حافظ عمران بٹ (سابق صدر، PWF)
-
عرفان بٹ (کوچ)
-
وقاص اکبر (کوچ)
پابندی کی نوعیت اور مدت
-
کھلاڑیوں اور کوچز پر بین الاقوامی سطح پر عائد پابندیوں کے برابر مدت تک پابندی برقرار رہے گی۔
-
سابق اور موجودہ عہدیداران کو چار سال کے لیے تمام کھیلوں سے متعلق سرگرمیوں سے معطل کیا گیا ہے۔
-
فیصلے کے مطابق، یہ پابندیاں فوری طور پر نافذالعمل ہیں۔
ترجمان پی ایس بی کے مطابق “پابندی کا شکار تمام افراد اپنی نااہلی کے خاتمے تک کسی بھی کھیل یا سپورٹس سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ پاکستان سپورٹس بورڈ کھیلوں میں شفافیت اور منصفانہ مقابلے کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔”
پی ایس بی نے مزید بتایا کہ اس فیصلے کی نقول متعلقہ قومی و بین الاقوامی اداروں بشمول IOC، OCA، IWF، AWF، WADA، ITA، CAS اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، یہ اقدام پاکستان میں کھیلوں کے میدان میں اینٹی ڈوپنگ ضوابط کے نفاذ کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے، جو مستقبل میں کھلاڑیوں کو منشیات یا ممنوعہ ادویات کے استعمال سے باز رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
