برلن امن مذاکرات: امریکا نے یوکرین سے مشرقی ڈونیٹسک سے افواج کے انخلاء پر آمادگی ظاہر کرنے کا مطالبہ کر دیا

یوکرین کے صدر زیلنسکی اور امریکی صدر ٹرمپ اتوار کو فلوریڈا میں امن میٹنگ کریں گے — لیکن جنگ بندی پلان پر اختلافات برقرار

برلن — امریکا اور یوکرین کے درمیان جاری امن مذاکرات میں ایک اہم اور حساس پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی مذاکرات کاروں نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ روس کے ساتھ تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت مشرقی ڈونیٹسک کے علاقے سے اپنی افواج کے انخلاء پر اتفاق کیا جائے۔

اس معاملے سے واقف ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جرمن دارالحکومت برلن میں یوکرائنی اور امریکی مذاکرات کاروں کے درمیان دوسرے روز کی اہم بات چیت مکمل ہو چکی ہے، تاہم یوکرین مزید مشاورت کا خواہاں ہے۔ مذاکرات سے آگاہ ایک دوسرے ذریعے کے مطابق علاقائی معاملات پر معاہدے کی راہ میں اب بھی بڑی رکاوٹیں موجود ہیں، جنہیں دور کرنا آسان نہیں ہوگا۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دن کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے علاقائی رعایتوں کے معاملے کو ’’تکلیف دہ‘‘ قرار دیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ اس نکتے پر فریقین کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں۔ انہوں نے کہا،
“سچ کہوں تو، ہمارے مؤقف اب بھی مختلف ہیں،”
تاہم زیلنسکی نے امید ظاہر کی کہ امریکی ثالث ان اختلافات کو کم کرنے اور کسی قابلِ قبول سمجھوتے تک پہنچنے میں مدد کریں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے