آپ کے بیانات عرب ممالک کو دور کر رہے ہیں: واشنگٹن کی اسرائیل پر سخت تنقید
ریاض / تل ابیب — امریکی اعلیٰ حکومتی حلقوں نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری سے متعلق مسلسل اشتعال انگیز بیانات پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے بیانات مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے امریکی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور عرب ممالک کو دور کر رہے ہیں۔
عبرانی اخبار یدیعوت آحرونوت سے وابستہ ویب سائٹ وائی نیٹ نیوز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اہم عہدوں پر فائز امریکی ذرائع نے اسرائیلی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر دفاع یسرائیل کاتز اور دیگر حکومتی شخصیات کے بیانات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاقائی امن منصوبے میں متوقع پیش رفت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ امریکی ذرائع کے مطابق ان بیانات کے باعث مزید عرب ممالک اس منصوبے میں شمولیت سے گریز کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اسرائیل سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ان وعدوں کی پاسداری کرے جو علاقائی استحکام اور امن کے فروغ کے لیے کیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے گزشتہ منگل کو اعلان کیا تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں آبادکاری کے مراکز قائم کرے گا۔ امریکی اعتراض سامنے آنے کے بعد انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد مستقل آبادکاری نہیں بلکہ عارضی فوجی رہائشی مراکز قائم کرنا تھا۔
تاہم جمعرات کو اسرائیل کاتز نے ایک بار پھر اسی نوعیت کے بیانات دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ یہ مؤقف وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیانات سے ہم آہنگ نظر آیا، جن میں انہوں نے حکومت کے سخت گیر عناصر کے خیالات کی تائید کی۔
تل ابیب کے سیاسی ذرائع کے مطابق بنیامین نیتن یاہو آئندہ پیر کو میامی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اس بات کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے درمیان موجود نام نہاد "یلو لائن” کو مستقل سرحد تسلیم کیا جائے۔ اس منصوبے کے تحت غزہ کی پٹی کے تقریباً 58 فیصد علاقے کو اسرائیل میں ضم کر کے اس پر اسرائیلی حاکمیت قائم کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ جو اسرائیلیوں پر حملے کرے گا، وہ زمین کے حق سے محروم ہو جائے گا۔ ناقدین کے مطابق یہ بیانیہ غزہ میں اسرائیلی فوجی قبضے کو وسعت دینے کے جواز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو جنگ بندی کے وقت 53 فیصد تھا اور اب بڑھ کر 58 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
بعد ازاں وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے ایک دائیں بازو کے آبادکار نواز اخبار مکور ریشون کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں آبادکاری مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور غزہ کے اندر ایک وسیع سکیورٹی زون برقرار رکھا جائے گا، جس کا مقصد سرحدی اسرائیلی قصبوں کا تحفظ بتایا گیا ہے۔
یسرائیل کاتز نے کہا کہ حتیٰ کہ اگر حماس کو غیر مسلح کر دیا جائے اور اس کی عسکری صلاحیتیں ختم کر دی جائیں، تب بھی غزہ کے اندر اسرائیلی سکیورٹی زون قائم رہے گا اور مستقبل میں منظم انداز میں آبادکاری مراکز بنائے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ نے مغربی کنارے میں نئی بستیوں کی تعمیر پر 14 ممالک کی جانب سے کی جانے والی مذمت کو مسترد کرتے ہوئے اسے "اخلاقی غلطی” اور "یہودیوں کے خلاف امتیازی رویہ” قرار دیا ہے۔