لندن میں بنگلہ دیشی سفارتخانے کے سامنے کشیدگی، بھارتی ہندو مظاہرین اور خالصتان کے حامی سکھ آمنے سامنے

لندن میں بنگلہ دیشی سفارتخانے کے سامنے کشیدگی، بھارتی ہندو مظاہرین اور خالصتان کے حامی سکھ آمنے سامنے

لندن — برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع بنگلہ دیشی سفارتخانے کے باہر اُس وقت شدید کشیدگی پیدا ہو گئی جب بھارتی ہندو مظاہرین اور خالصتان کے حامی سکھ کارکن آمنے سامنے آ گئے، جس کے نتیجے میں دونوں گروپوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

صورتحال اس قدر بگڑ گئی کہ برطانوی پولیس کو فوری مداخلت کرنا پڑی اور علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔ پولیس نے دونوں گروپوں کو الگ کر کے حالات کو قابو میں کیا اور سفارتخانے کے گرد حفاظتی حصار قائم کر دیا تاکہ کسی مزید ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

بھارتی ہندو مظاہرین بنگلہ دیش میں ایک ہندو شہری کے قتل کے خلاف احتجاج کے لیے بنگلہ دیشی سفارتخانے کے سامنے جمع ہوئے تھے۔ تاہم یہ مظاہرہ اُس وقت کشیدگی میں تبدیل ہو گیا جب خالصتان کے حامی سکھ بنگلہ دیش کی حمایت میں خالصتان کے پرچم لہراتے ہوئے موقع پر پہنچ گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق دونوں گروپوں کے درمیان شدید نعرے بازی ہوئی جو بعد ازاں ہاتھا پائی میں تبدیل ہو گئی۔ پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث صورتحال کو مزید بگڑنے سے روک لیا گیا۔

اس دوران خالصتان کے حامی مظاہرین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کی جانب سے
“ہادی کو کس نے قتل کیا؟ مودی، مودی، بھارت”
اور
“شہید نجار کو کس نے قتل کیا؟ مودی، مودی، بھارت”
جیسے نعرے لگائے گئے، جس کے باعث فضا مکمل طور پر مودی مخالف رنگ اختیار کر گئی۔

برطانوی حکام نے واقعے کی نگرانی جاری رکھنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ کسی گرفتاری یا زخمی ہونے کی فوری اطلاع سامنے نہیں آئی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے