عثمان ہادی کے قاتلوں نے بھارت میں پناہ لے لی: بنگلہ دیشی پولیس کا انکشاف

عثمان ہادی کے قاتل بھارت میں پناہ

ڈھاکہ — بنگلہ دیشی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ طلبہ تحریک کے ممتاز رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل میں ملوث دو مرکزی ملزمان بھارت فرار ہو کر ریاست میگھالیہ میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق قتل کے مرکزی ملزمان فیصل کریم مسعود اور عالمگیر شیخ واقعے کے فوراً بعد سرحد عبور کر کے بھارت چلے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ عثمان ہادی کا قتل مکمل منصوبہ بندی کے تحت انجام دیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق اب تک اس کیس میں 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں وہ عناصر بھی شامل ہیں جنہوں نے شوٹر اور دیگر ملزمان کو بھارت فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔ تفتیش کے دوران 53 بینک اکاؤنٹس کے دستخط شدہ چیکس بھی برآمد ہوئے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 218 کروڑ بنگلہ دیشی ٹکا بتائی جا رہی ہے، جو قتل کے مالی پہلو اور پشت پناہی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

پولیس کے مطابق شریف عثمان ہادی کو ڈھاکہ میں ایک مسجد سے نکلتے وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ وہ شدید زخمی حالت میں کئی روز تک زیرِ علاج رہے، تاہم جانبر نہ ہو سکے۔

شریف عثمان ہادی، سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف ملک گیر طلبہ تحریک کے صفِ اول کے رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ان کی قیادت میں طلبہ کی تحریک نے سیاسی جبر، مبینہ آمریت اور غیر ملکی اثر و رسوخ کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی تھی۔

عثمان ہادی کے قتل کے بعد پورے بنگلہ دیش میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا، جہاں مظاہرین نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ کئی مظاہروں میں عوامی حلقوں کی جانب سے اس قتل کا الزام براہِ راست بھارت پر بھی عائد کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی سطح پر قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے