وینزویلا کا امریکہ سے صدر مادورو کی زندگی کا ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ

Venezuelan Vice President Delcy Rodriguez

کاراکاس / واشنگٹن – وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر نکولس مادورو کی زندگی کا ثبوت فراہم کرے، جن کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں امریکی افواج نے گرفتار کر لیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیلسی روڈریگز نے ہفتے کے روز وینزویلا کے سرکاری ٹی وی سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ کاراکاس اور دیگر شہروں پر امریکی فضائی حملوں کے بعد صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس سے متعلق کسی قسم کی مصدقہ معلومات حکومت کے پاس موجود نہیں ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی افواج نے حراست میں لے کر وینزویلا سے باہر منتقل کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی واشنگٹن کی جانب سے کئی ماہ کے دباؤ کے بعد عمل میں لائی گئی۔

امریکہ نے ہفتے کے اوائل میں وینزویلا پر ’’بڑے پیمانے پر فوجی حملوں‘‘ کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے ان حملوں کے چند گھنٹے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک غیر معمولی رات گئے بیان میں مادورو کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

تاہم اس فوجی کارروائی کے قانونی جواز پر فوری طور پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، کیونکہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا صدر ٹرمپ نے اس اقدام سے قبل امریکی کانگریس سے مشاورت کی تھی یا نہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی فوجی کارروائی نے 1990 میں پاناما پر امریکی حملے کی یاد تازہ کر دی ہے، جب پانامہ کے صدر مینوئل انتونیو نوریگا کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا گیا تھا۔

ادھر امریکی اٹارنی جنرل پام بوندی نے بتایا ہے کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کے خلاف نیویارک میں فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے اور انہیں مختلف الزامات کا سامنا کرنا ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے