ریاض – سعودی عرب نے یمن کے جنوبی مسئلے کے حل کے لیے ریاض میں ایک جامع کانفرنس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے صدر ڈاکٹر رشاد العلیمی کی درخواست پر کیا گیا ہے، جس کا مقصد یمن کے تمام جنوبی سیاسی دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور جنوبی مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل پر غور کرنا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے 30 دسمبر 2025 کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی مسئلہ ایک تاریخی اور سماجی حیثیت کا حامل ہے اور اس کا واحد قابلِ عمل حل یمن میں جامع سیاسی تصفیے کے فریم ورک کے تحت مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
بیان کے مطابق، دو برادر ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور مشترکہ مفادات کے پیشِ نظر سعودی عرب نے اس کانفرنس کے انعقاد کی درخواست کا خیر مقدم کیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے تمام جنوبی دھڑوں پر زور دیا ہے کہ وہ کانفرنس میں فعال اور مثبت شرکت کریں اور ایک ایسا جامع وژن تشکیل دیں جو جنوبی عوام کی جائز امنگوں کی عکاسی کرے اور خطے میں استحکام و پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس یمن میں سیاسی مفاہمت کے فروغ اور علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
