واشنگٹن – ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے کہا ہے کہ ان کی کمپنی کا انسان نما روبوٹ ’آپٹیمس‘ صرف تین برس میں دنیا کے بہترین میڈیکل سرجنز سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکے گا۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق یہ دعویٰ انہوں نے ’’مون شاٹس‘‘ پوڈکاسٹ میں میزبان، امریکی معالج اور انجینئر پیٹر ڈیامانڈس کے ساتھ گفتگو کے دوران کیا۔
ایلون مسک کے مطابق اس وقت دنیا میں ماہر ڈاکٹروں اور سرجنز کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اچھا ڈاکٹر بننے میں برسوں لگ جاتے ہیں، جبکہ میڈیکل شعبے میں معلومات تیزی سے بدل رہی ہیں۔ اس صورت میں ڈاکٹروں کے لیے جدید معلومات کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا مشکل ہے، اور محدود وقت میں وہ غلطیاں بھی کرتے ہیں۔
مسک نے کہا، "میں سمجھتا ہوں کہ تین سال کافی ہیں۔ ممکن ہے کہ اس دوران بہترین سرجن صلاحیت رکھنے والے آپٹیمس روبوٹس کی تعداد زمین پر موجود تمام سرجنز سے بھی زیادہ ہو جائے۔”
انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں آپٹیمس روبوٹ کے پروٹوٹائپس متعارف کرائے گئے تھے اور ابتدائی پیداوار اگلے سال شروع ہونے کی امید ظاہر کی گئی تھی۔ بعد میں، 2024 میں، مسک نے اعلان کیا کہ یہ روبوٹس 2026 میں فروخت کے لیے دستیاب ہوں گے۔
تاہم، نیویارک یونیورسٹی کے گراس مین سکول آف میڈیسن کے بایوایتھکس پروفیسر آرتھر کیپلان نے کہا ہے کہ ایلون مسک کا یہ دعویٰ کافی پرامید ہے اور بڑے آپریشنز میں روبوٹس کا وسیع پیمانے پر استعمال ابھی طویل عرصے تک ممکن نہیں ہوگا۔
