یورپی ممالک نے امریکی دھمکیوں کے بعد گرین لینڈ میں فوجی موجودگی پر غور شروع کر دیا

European countries begin considering military presence in Greenland after US threats

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک کے ایک گروپ نے امریکی دھمکیوں کے تناظر میں گرین لینڈ میں فوجی موجودگی پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے، جس کے تحت برطانیہ اور جرمنی نیٹو افواج کی تعیناتی کے امکان پر مشاورت کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرین لینڈ میں نیٹو افواج کی ممکنہ تعیناتی کا مقصد امریکا کی جانب سے سامنے آنے والی دھمکیوں کے اثرات کو کم کرنا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ پیغام دینا ہے کہ یورپ آرکٹک خطے کی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔ جرمنی آئندہ دنوں میں آرکٹک خطے کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ نیٹو مشن کی تجویز پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

برطانوی وزیرِاعظم کیئراسٹارمر نے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں اپنی موجودگی بڑھائیں اور اسی مقصد کے تحت انہوں نے فرانس اور جرمنی سمیت دیگر یورپی رہنماؤں سے رابطے بھی کیے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کو گرین لینڈ پر قبضے کے لیے منصوبہ تیار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ٹرمپ کے قریبی مشیروں کو مزید حوصلہ ملا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ روس یا چین کی کسی ممکنہ کارروائی سے پہلے ہی اس جزیرے پر تیزی سے کنٹرول حاصل کر لیا جائے۔

بلومبرگ کے مطابق ٹرمپ کی ٹیم وسط مدتی انتخابات سے قبل عوامی توجہ ہٹانے کے لیے اس اقدام کو استعمال کرنا چاہتی ہے، جبکہ اس صورتحال کے باعث نیٹو اتحاد میں دراڑ پڑنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے