پاکستان کا 2030 تک 60 فیصد قابل تجدید توانائی کا ہدف

پاکستان نے 2030 تک اپنے توانائی کے شعبے میں 60 فیصد قابل تجدید توانائی حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، کیونکہ ملک تیز رفتاری سے صاف، پائیدار توانائی کے ذرائع کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

یہ بات وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے ماحولیاتی تبدیلی، رومینہ خورشید عالم نے ابوظبی میں 16ویں بین الاقوامی ایجنسی برائے قابل تجدید توانائی (IRENA) کی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی کل بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 53 فیصد رہا جو ایک ریکارڈ ہے۔

رومینہ خورشید عالم نے توانائی کے شعبے میں پاکستان کی تیز رفتار ترقی کا ذکر کیا جسے دنیا کے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے سولر مارکیٹس میں شمار کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے امید کا اظہار کیا کہ سنہ 2026 کے آخر تک پاکستان میں 12 گیگاواٹ آف گریڈ سولر اور 6 گیگاواٹ نیٹ میٹرڈ سولر صلاحیت حاصل کرنے کی توقع ہے۔

رومینہ خورشید عالم نے مزید کہا کہ پاکستان نے قدرتی آفات بالخصوص سیلاب کے دوران، توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے سولر ( شمسی ) توانائی کو غیر معمولی انداز سے استعمال کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سولر کٹس تقسیم کیں اور سولر کٹس نے بجلی کی بحالی اور لوگوں کو روٹی روزی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

16ویں ارینا ( IRENA ) اسمبلی میں 139 ممالک سے 1500 سے زائد مندوبین نے شرکت کی، اور پاکستان کی توانائی کے شعبے میں تبدیلی کے حوالے سے کامیابیوں کو بھی سراہا گیا۔

اپنے اختتامی کلمات میں، رومینہ خورشید عالم نے ارینا (IRENA) اور بین الاقوامی شراکت داروں سے ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی امداد بڑھانے کی اپیل کی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے