تہران – ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ماضی کی طرح دوبارہ فوجی آپشن آزمانے کی کوشش کی تو ایران اس کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران دھمکیوں اور ڈکٹیشن کے بغیر سنجیدہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہے، تاہم بات چیت برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران یہ نہیں سمجھتا کہ واشنگٹن منصفانہ اور دیانت دارانہ مذاکرات کے لیے واقعی تیار ہے۔ ان کے مطابق دباؤ، پابندیوں اور عسکری دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کا تصور قابلِ قبول نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں سفارتی اور عسکری صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
