کراچی — اردو اور سندھی ڈرامہ انڈسٹری کے نامور اور ہمہ جہت اداکار گلاب چانڈیو کو مداحوں سے جدا ہوئے سات برس گزر چکے ہیں، مگر ان کی یادیں، مکالمے اور کردار آج بھی ناظرین کے دلوں میں زندہ ہیں۔
گلاب چانڈیو فنِ اداکاری کی خداداد صلاحیتوں کے حامل تھے۔ وہ ان فنکاروں میں شمار ہوتے تھے جو اسکرین پر آتے ہی کردار میں جان ڈال دیتے تھے۔ چاہے ٹی وی اسکرین ہو، فلم کا پردہ یا اسٹیج — گلاب چانڈیو نے ہر میڈیم پر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور برسوں تک فن کی دنیا پر اپنی موجودگی کا سکہ جمائے رکھا۔
مکالمے، تاثر اور کردار کی گہرائی
گلاب چانڈیو کو مکالمات کی مؤثر ادائیگی میں غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ ان کی آواز، لہجہ اور تاثرات کردار کو حقیقت کے قریب لے آتے تھے۔ اگرچہ وہ زیادہ تر ڈراموں میں منفی کرداروں میں نظر آئے، مگر حقیقی زندگی میں وہ نہایت نرم خو، سادہ مزاج اور شفیق انسان تھے۔
ان کی اداکاری میں شدت بھی تھی اور توازن بھی — یہی وجہ ہے کہ ناظرین ان کے منفی کرداروں سے نفرت ضرور کرتے تھے، مگر اداکار کی صلاحیت کے معترف بھی رہتے تھے۔
یادگار ڈرامے
گلاب چانڈیو نے اردو اور سندھی ڈراموں میں درجنوں کردار ادا کیے، جن میں کئی آج بھی کلاسک کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کے نمایاں ڈراموں میں:
سچائیاں، بے وفائیاں، ماروی، غلام گردش، ساگر کا موتی، جنگل، زینت، ٹیپو سلطان، نوری جام تماچی اور چاند گرہن
شامل ہیں، جنہوں نے انہیں گھر گھر پہچان دلائی۔
فلمی دنیا میں بھی بھرپور موجودگی
ڈراموں کے ساتھ ساتھ گلاب چانڈیو نے فلمی اسکرین پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے سندھی، اردو اور پنجابی کی مجموعی طور پر 18 فلموں میں اداکاری کی۔
ان کی نمایاں فلموں میں سوہنا سائیں، دشمن، طوفان، الزام، راز، سرگم اور میری توبہ شامل ہیں، جن کے ذریعے انہوں نے فلمی شائقین میں بھی اپنی جگہ مضبوط کی۔
سرکاری اعزاز اور دائمی پہچان
فن کے شعبے میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 14 اگست 2015ء کو گلاب چانڈیو کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا، جو ان کی فنی عظمت کا سرکاری اعتراف تھا۔
نامور اداکار 18 جنوری 2019ء کو کراچی میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر اپنی منفرد اداکاری، یادگار مکالموں اور مضبوط کرداروں کے باعث وہ آج بھی ناظرین کے دلوں میں زندہ ہیں۔
گلاب چانڈیو محض ایک اداکار نہیں تھے —
وہ کردار کو جینے کا ہنر جانتے تھے۔
