عظیم گلوکارہ مہناز بیگم: مداحوں سے بچھڑے دس برس بیت چکے

عظیم گلوکارہ مہناز بیگم: مداحوں سے بچھڑے دس برس بیت چکے

کراچی – پاکستانی موسیقی کی دنیا کا ایک درخشاں باب، عظیم گلوکارہ مہناز بیگم کو ہم سے بچھڑے آج برسوں بیت چکے ہیں، مگر ان کی سریلی آواز آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتی ہے اور ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ ہے۔

19 جنوری 2013ء کو جہانِ فانی سے رخصت ہونے والی مہناز بیگم نے اپنی منفرد، نرم اور پُرسوز آواز سے اردو فلم، ریڈیو اور ٹیلی وژن کی موسیقی کو وہ شناخت بخشی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

1955ء میں کراچی میں پیدا ہونے والی مہناز بیگم کا اصل نام تسنیم تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد سرسید گرلز کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ موسیقی سے فطری لگاؤ نے انہیں کم عمری ہی میں فن کی دنیا کی جانب راغب کر دیا اور 1972ء میں انہوں نے باقاعدہ طور پر گائیکی کے سفر کا آغاز کیا۔

مہناز بیگم کو پاکستان ٹیلی وژن کے معروف موسیقار امیر امام نے پی ٹی وی کے مقبول پروگرام نغمہ زار کے ذریعے متعارف کروایا۔ ان کی آواز نے جلد ہی ناظرین کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور یہی مقبولیت انہیں فلمی دنیا تک لے گئی۔

انہوں نے کئی دہائیوں تک ریڈیو، ٹی وی اور فلم کے لیے بے شمار لازوال گیت گائے، جنہوں نے انہیں ملک کی صفِ اول کی گلوکاراؤں میں شامل کر دیا۔ ان کی گائیکی میں درد، مٹھاس اور سادگی کا ایسا حسین امتزاج تھا جو سننے والے کو بے اختیار اپنی جانب کھینچ لیتا تھا۔

فنِ موسیقی کے لیے ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں مہناز بیگم کو 13 مرتبہ نگار فلم ایوارڈ سے نوازا گیا، جو ان کے غیر معمولی فنی مقام کا واضح ثبوت ہے۔

زندگی کے آخری برسوں میں وہ طویل علالت کا شکار رہیں اور بالآخر 19 جنوری 2013ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں، تاہم وہ اپنی آواز اور گیتوں کی صورت میں آج بھی زندہ ہیں۔

مہناز بیگم صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ پاکستانی موسیقی کی تاریخ کا وہ روشن نام ہیں جس کی گونج آنے والی نسلوں تک سنائی دیتی رہے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے