دنیا پانی کے عالمی دیوالیہ پن کے مرحلے میں داخل، اقوام متحدہ کی رپورٹ

(Global Water Bankruptcy)

اقوام متحدہ کی نئی فلیگ شپ رپورٹ کے مطابق دنیا پانی کے بحران سے آگے بڑھ کر پانی کے عالمی دیوالیہ پن (Global Water Bankruptcy) کی حالت میں پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی دہائیوں سے سائنسدان، پالیسی ساز اور میڈیا پانی کی قلت کے خطرات سے آگاہ کرتے رہے ہیں، لیکن اب بہت سے خطوں میں پانی کی مستقل قلت نے نظام کو اپنی تاریخی حالت میں واپس آنے سے روک دیا ہے۔

یو این یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے ڈائریکٹر کاویہ مدنی نے کہا کہ دنیا کے بیشتر حصوں میں پانی کی صورتحال اب معمولی نہیں رہی اور اس کے اثرات تجارت، نقل مکانی اور جغرافیائی سیاسی تعلقات کے ذریعے عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پانی کے دیوالیہ پن سے مراد قابل تجدید پانی کے وسائل سے زیادہ نکاسی اور آلودگی ہے، جس سے قدرتی نظام جیسے ویٹ لینڈز اور جھیلیں ناقابل واپسی نقصان کا شکار ہو چکی ہیں۔ کاویہ مدنی نے واضح کیا کہ یہ صورتحال چھوٹے کسانوں، کم آمدنی والے شہریوں، خواتین اور نوجوانوں پر سب سے زیادہ اثر ڈالتی ہے، جبکہ زیادہ استعمال کے فوائد طاقتور عناصر حاصل کرتے ہیں۔

مطالعے کے نتائج کے مطابق:

  • 1990 کی دہائی سے دنیا کی نصف بڑی جھیلوں میں پانی کی کمی واقع ہوئی ہے۔

  • 1970 کے بعد سے تقریباً 35 فیصد قدرتی پانی والی زمینیں ختم ہو چکی ہیں۔

  • دنیا کی تقریباً تین چوتھائی آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جو پانی کے لیے غیر محفوظ یا شدید غیر محفوظ قرار دیے گئے ہیں۔

  • تقریباً چار ارب لوگ ہر سال ایک ماہ تک پانی کی شدید قلت کا سامنا کرتے ہیں، اور خشک سالی کے اثرات سے سالانہ نقصان کا تخمینہ 307 بلین ڈالر ہے۔

کاویہ مدنی نے خبردار کیا کہ اگر پانی کی قلت کے مسائل کو صرف عارضی بحران کے طور پر دیکھا جائے اور قلیل مدتی اصلاحات کی جائیں تو ماحولیاتی نقصان میں اضافہ اور سماجی تنازعات شدت اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیوالیہ پن ایک منظم بحالی کے منصوبے کے آغاز کا موقع بھی ہے، جس میں پانی کے ضیاع کو روکا جائے، ضروری خدمات کی حفاظت کی جائے اور پانی کے وسائل کی پائیدار تعمیر نو میں سرمایہ کاری کی جائے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے