واشنگٹن/اوٹاوا — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی گئی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ بورڈ آف پیس دنیا کے بااثر ترین رہنماؤں کا فورم ہے، لیکن کینیڈا کے وزیراعظم کا مزید خیرمقدم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح نہیں کیا کہ یہ دعوت کیوں واپس لی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم مارک کارنی نے بورڈ آف پیس پر پہلے ہی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ کارنی نے ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ “کینیڈا امریکا کی وجہ سے زندہ ہے۔” کارنی نے کہا کہ کینیڈا اپنی ترقی اپنی قابلیت اور کوششوں کی بدولت کرتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، امریکی صدر کی جانب سے دعوت واپس لینے کے فیصلے سے ٹرمپ اور کارنی کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ مارک کارنی نے ڈنمارک سے گرین لینڈ کے کنٹرول کے معاملے میں صدر ٹرمپ کی کوشش کی مخالفت کی ہے اور نیٹو کے دیگر اتحادیوں کے ساتھ موقف اختیار کیا ہے۔
اس اعلان کے بعد کینیڈین وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
