پیرس / برسلز – فرانسیسی حکومت نے مؤقف میں اچانک تبدیلی کرتے ہوئے ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری بیان میں کہا ہے کہ فرانس یورپی یونین کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں آئی آر جی سی کو شامل کرنے کی حمایت کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس جمعرات کو برسلز میں منعقد ہوگا، جہاں اس حساس فیصلے پر باضابطہ غور کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپی یونین کے بعض رکن ممالک پہلے ہی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو نام نہاد دہشتگرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
پیر کے روز اطالوی وزیرِ خارجہ نے بھی اپنے ملک کی سابقہ پوزیشن سے پیچھے ہٹتے ہوئے اس اقدام کی حمایت کر دی تھی، جس کے بعد یورپی سطح پر دباؤ میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ روز ہی فرانس نے پاسدارانِ انقلاب کو دہشتگرد فہرست میں شامل کرنے کی مخالفت کی تھی۔ اس حوالے سے یورپی سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ پیرس کو خدشہ ہے کہ ایسے کسی اقدام سے تہران کے ساتھ تمام سفارتی اور مواصلاتی راستے منقطع ہو سکتے ہیں۔
تاہم تازہ مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرانس نے یورپی شراکت داروں کے دباؤ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یورپی یونین نے اجتماعی طور پر آئی آر جی سی کو دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا تو اس کے ایران–یورپ تعلقات پر گہرے اور طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن میں نئی پابندیاں، سفارتی تناؤ اور جوہری مذاکرات پر منفی اثرات شامل ہیں۔
