غزہ جنگ بندی معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل، امریکا کو حماس کے غیر مسلح ہونے کی امید

غزہ جنگ بندی معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل، امریکا کو حماس کے غیر مسلح ہونے کی امید

اشنگٹن / غزہ – غزہ کی پٹی میں نافذ جنگ بندی کا معاہدہ دوسرے مرحلے میں داخل ہوتے ہی امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ حماس تنظیم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے تحت غیر مسلح ہو جائے گی۔

جمعرات کی شام امریکی حکومت کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ
“ہم نے وہاں سے دہشت گرد عناصر کو نکال دیا ہے اور اب وہ غیر مسلح ہو جائیں گے۔ وہ ایسا اس لیے کریں گے کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہا۔”

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ امریکا کو توقع ہے کہ حماس تنظیم اپنی کلاشنکوف (AK-47) رائفلوں سمیت دیگر ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے گی۔

اسی اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
“بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ کبھی غیر مسلح نہیں ہوں گے، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔”

جنگ بندی کا پس منظر

یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوئی تھی، جو ٹرمپ انتظامیہ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ تھی۔ اس مرحلے کے دوران:

  • اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہوا

  • محدود فوجی سرگرمیاں معطل کی گئیں

  • انسانی امداد کی غزہ میں رسائی ممکن بنائی گئی

دوسرے مرحلے کی اہم شقیں

امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

  • حماس تنظیم کو غیر مسلح کرنا

  • غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کا قیام

  • مستقل جنگ بندی کی بنیاد رکھنا

  • غزہ کی تعمیرِ نو کا آغاز

تاہم حماس تنظیم نے تاحال ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے اور اس شرط کو غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلاء سے مشروط قرار دیا ہے۔ حماس کا مؤقف ہے کہ غیر مسلح ہونے کا فیصلہ فلسطینی سطح پر اجتماعی مشاورت سے ہی ممکن ہوگا۔

البتہ تنظیم کی جانب سے یہ عندیہ ضرور دیا گیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی کنٹرول سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہے۔

اسرائیلی مؤقف

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ برس کے اختتام پر صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا کہ حماس کے پاس اب بھی غزہ میں تقریباً 60 ہزار کلاشنکوف رائفلیں موجود ہیں، جو اسرائیل کے لیے سنگین سیکیورٹی تشویش کا باعث ہیں۔

امن منصوبے کا مقصد

ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کا بنیادی مقصد:

  • اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کا مستقل خاتمہ

  • دو سالہ جنگ کے دوران تباہ ہونے والی غزہ کی پٹی کی بحالی

  • خطے میں طویل المدتی استحکام کا قیام

یہ منصوبہ گزشتہ برس نومبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت بھی حاصل کر چکا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ نہ صرف غزہ کے مستقبل بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار فریقین کی عملی نیت اور عالمی ضمانتوں پر ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے