تہران — ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ نہ تو ایران کے مفاد میں ہے، نہ امریکا کے اور نہ ہی پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
العربیہ کے مطابق ایرانی صدر نے یہ بات مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہی۔ مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کبھی بھی جنگ کی تلاش میں نہیں رہا اور تہران اس یقین پر قائم ہے کہ تصادم خطے میں مزید عدم استحکام کو جنم دے گا۔
جوہری معاملہ اور بڑھتی کشیدگی پر تشویش
مصر کے ایوانِ صدر کے ترجمان محمد الشناوی کے مطابق اس رابطے میں ایران کے جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ صدر عبدالفتاح السیسی نے خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں اور تصادم سے ہر صورت گریز کیا جانا چاہیے۔
مصری صدر نے اس بات پر زور دیا کہ سفارت کاری اور مذاکرات ہی بحرانوں کے حل کا واحد اور مؤثر راستہ ہیں، تاکہ مشرق وسطیٰ کو مزید تناؤ اور عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔
مذاکرات کی بحالی کے لیے مصر کی کوششیں
مصری ایوانِ صدر کے ترجمان کے مطابق صدر السیسی نے کہا کہ مصر اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا تاکہ امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور ایرانی جوہری معاملے کا پرامن، جامع اور قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے، جو علاقائی اور عالمی استحکام کو فروغ دے۔
ایران کی جانب سے مصر کے کردار کی تعریف
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے مصر کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قاہرہ کی کوششیں مشرق وسطیٰ میں سلامتی اور استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی مشاورت اور ہم آہنگی بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ باہمی تعاون سے علاقائی استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
