پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے پر ایران کا شدید ردعمل، یورپی یونین کے تمام سفیروں کو طلب کر لیا

صیہونی فوجی مقبوضہ فلطین کو چھوڑ دیں، اسرائیلی عوام فوجی تنصیبات و حکومتی مراکز سے دور رہیں، پاسداران انقلاب ایران

تہران – ایران نے یورپی یونین کی جانب سے سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے احتجاجاً اپنے ہاں تعینات یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کے سفیروں کو طلب کر لیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ یورپی سفیروں کو اتوار کے روز وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہیں تہران کے شدید تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق ایران اس فیصلے کو غیر قانونی، سیاسی اور اشتعال انگیز قرار دیتا ہے۔

یورپی یونین نے گزشتہ ہفتے پاسدارانِ انقلاب کو جنوری میں ایران بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر طاقت کے استعمال اور کریک ڈاؤن میں کردار ادا کرنے کے الزام میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے اعلان کیا ہے کہ ایران بھی ان یورپی ممالک کی افواج کو دہشت گرد قرار دے گا جنہوں نے پاسدارانِ انقلاب پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک بیان میں علی لاریجانی نے کہا کہ“مغرب دہشت گردی کی تعریف نہیں کرتا بلکہ اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ“غزہ میں قاتلوں کی حمایت کرنا، دہشت گردوں کی سرپرستی کرنا اور خطے میں بدامنی پھیلانا مغربی سیاست کہلاتا ہے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی داعش کے خلاف جنگ کو دہشت گردی قرار دیا جا رہا ہے۔”

لاریجانی کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ اور یورپ نے دہشت گردی کے تصور کو مسخ کر دیا ہے، اور تہران اس پر فوری اور مؤثر جوابی اقدامات کرے گا۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی یورپی یونین کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بڑی تزویراتی غلطی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھائیں گے بلکہ ایران اور یورپ کے تعلقات کو مزید نقصان پہنچائیں گے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپی یونین نے پاسدارانِ انقلاب کو حالیہ مظاہروں کے دوران مبینہ خونریز کریک ڈاؤن کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس پر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے