کابل / واشنگٹن – افغانستان پر قابض طالبان رجیم کے ترقی اور سلامتی سے متعلق دعوے ایک بار پھر عالمی حقائق کے سامنے بے نقاب ہو گئے ہیں۔ امریکی جریدے یوریشیا ریویو کی تازہ رپورٹ میں طالبان کے امن و استحکام کے بیانیے کو محض ایک فریب قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کا براہِ راست تعلق افغان سرزمین سے جڑا ہوا ہے، جہاں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرمِ عمل ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طالبان کی جانب سے امن و سلامتی کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
یوریشیا ریویو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے افغانستان کو محفوظ اور مستحکم ملک کے طور پر پیش کرنا عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک ایک بار پھر علاقائی عدم استحکام کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ورلڈ بینک کی رپورٹ نے بھی طالبان کے معاشی ترقی کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کی معیشت کسی ترقی کے بجائے صرف بقاکی حالت میں ہے، جہاں روزگار، سرمایہ کاری اور بنیادی خدمات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں برانڈنگ اور حقیقت کے درمیان سب سے بڑا خلا حکمرانی کا ہے۔ طالبان کی پالیسیوں، خصوصاً خواتین کی تعلیم پر پابندی کو طویل المدتی خود تخریبی کی سب سے نمایاں مثال قرار دیا جا رہا ہے، جس نے افغانستان کو عالمی تنہائی کی طرف مزید دھکیل دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان رجیم محض پروپیگنڈا اور بے بنیاد دعوؤں کے ذریعے اپنے اقتدار کو طویل عرصے تک قائم نہیں رکھ سکتا، جب تک کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی، شفاف حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی جیسے اقدامات نہیں کرتا۔
