بیجنگ – چین کی ایک عدالت نے سابق وزیرِ انصاف تانگ یی جون کو بدعنوانی اور رشوت لینے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق شیامن انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے اپنے فیصلے میں تانگ کو بھاری مالی بدعنوانی کا مرتکب قرار دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق تانگ یی جون نے 2006 سے 2022 کے دوران اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے 137 ملین یوان (تقریباً 19.7 ملین امریکی ڈالر) سے زائد غیر قانونی رقم وصول کی۔ عدالت نے بتایا کہ تانگ نے مختلف کمپنیوں اور افراد کو ناجائز فوائد پہنچائے، جن میں کمپنیوں کی اسٹاک مارکیٹ میں لسٹنگ، زمین کی خرید و فروخت، بینک قرضوں کی منظوری اور عدالتی مقدمات کی کارروائی میں اثر و رسوخ شامل تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ تانگ کے اقدامات واضح طور پر رشوت کے زمرے میں آتے ہیں اور وصول کی گئی رقم کو انتہائی زیادہ جبکہ ریاست اور عوامی مفادات کے لیے سنگین نقصان دہ قرار دیا گیا۔ فیصلے کے تحت تانگ سے تاحیات سیاسی حقوق بھی چھین لیے گئے اور ان کی تمام ذاتی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا گیا۔
یہ سزا ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین میں بدعنوانی کے خلاف سخت مہم جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد اعلیٰ حکومتی اور فوجی عہدیداروں کے خلاف تحقیقات اور گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
اسی تناظر میں چین کے اینٹی کرپشن ادارے نے حال ہی میں وزیرِ ہنگامی امور وانگ ژیانگ زی کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز کیا ہے، جو کسی فعال وزیر کے خلاف کم دیکھے جانے والے اقدامات میں سے ایک ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ماہ چین کے سینئر فوجی جنرل ژانگ یو شیہ کے خلاف بھی تفتیش شروع کی گئی تھی، جسے اعلیٰ فوجی قیادت کے خلاف نمایاں کریک ڈاؤن قرار دیا جا رہا ہے۔
64 سالہ تانگ یی جون نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز مشرقی صوبے زیجیانگ سے کیا، جہاں انہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصہ خدمات انجام دیں اور صوبے کے ڈپٹی پارٹی چیف کے عہدے تک پہنچے۔ بعد ازاں وہ لیفانینگ کے گورنر رہے اور 2020 میں وزیرِ انصاف مقرر ہوئے۔
تانگ کو صدر شی جن پنگ کے قریبی ساتھیوں میں بھی شمار کیا جاتا تھا، کیونکہ وہ ننگبو کے پارٹی سیکریٹری کے طور پر اس وقت خدمات انجام دے رہے تھے جب شی جن پنگ 2002 سے 2007 کے دوران زیجیانگ صوبے کے ڈپٹی پارٹی سیکریٹری اور پارٹی سیکریٹری تھے۔
واضح رہے کہ تانگ یی جون کو اپریل 2024 میں سنٹرل کمیشن فار ڈسپلن انسپیکشن اور نیشنل سپروائزری کمیشن کی جانب سے سنگین ضابطہ اور قانونی خلاف ورزیوں کے شبہات پر حراست میں لیا گیا تھا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد انہیں کمیونسٹ پارٹی سے بھی نکال دیا گیا۔
