بیروت / پیرس – لبنان میں فرانس کی قیادت میں 5 مارچ کو ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوگی، جس میں لبنانی فوج کی صلاحیتوں اور بین الاقوامی امداد میں اضافے پر زور دیا جائے گا۔ کانفرنس کی صدارت فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کریں گے اور اس میں تقریباً 50 ممالک اور 10 بین الاقوامی و علاقائی تنظیموں کے نمائندے شرکت کریں گے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق یہ اجلاس لبنان کے تمام ہتھیاروں کو ریاست کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، جو جنوبی لبنان میں دریائے لیتانی سے دریائے عوالی تک پھیلا ہوا ہے۔ ابتدائی اجلاس کی تیاریوں میں لبنانی فوج کو اسلحہ، سازوسامان اور مالی اعانت میں اپنی متوقع ضروریات اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ شریک ممالک بروقت امدادی اقدامات کر سکیں۔
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نول اس ہفتے بیروت کا دورہ کریں گے، جہاں وہ لبنان کی قیادت سے ملاقات کریں گے اور حزب اللہ کے ہتھیاروں، داخلی سلامتی اور علاقائی خطرات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ فرانس کے مطابق حزب اللہ کی عسکری صلاحیتیں کمزور پڑنے کے باوجود گروپ اب بھی ہتھیاروں کی منتقلی کے خلاف مزاحمت کر سکتا ہے، تاہم واضح انکار لبنان کے لیے بھاری قیمت کا سبب بن سکتا ہے۔
معاشی شعبے میں، فرانس بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ایک معاہدے کی حمایت کے لیے لبنان کے مالیاتی قانون کے مسودے کو اہم قرار دیتا ہے، جو بین الاقوامی امداد اور تعمیر نو کے لیے ضروری ہے۔
فرانسیسی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کا قومی مفاد خطے میں کسی بھی ایرانی-امریکی-اسرائیلی محاذ آرائی سے دور رہنا ہے تاکہ ملک کی استحکام، خودمختاری اور داخلی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
