امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف ایک ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رہی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مطالبہ ان وفاقی تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں یونیورسٹی کی پالیسیوں اور کیمپس کے مجموعی ماحول کو مبینہ طور پر یہود دشمن قرار دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اب ایک ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور مستقبل میں ہارورڈ یونیورسٹی سے ہمارا کوئی مزید تعلق نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ رقم کس بنیاد پر مقرر کی گئی ہے یا کن مخصوص نقصانات کے ازالے کے لیے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے تاحال صدر ٹرمپ کے اس نئے مطالبے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ کئی ماہ سے ہارورڈ سمیت متعدد امریکی جامعات پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ اگر کیمپس میں مبینہ یہود مخالف سرگرمیوں، فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں، تنوع (ڈائیورسٹی) پروگرامز اور ٹرانس جینڈر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو وفاقی فنڈنگ روکی جا سکتی ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ غزہ جنگ کے دوران فلسطین نواز مظاہروں میں بعض مواقع پر یہود دشمن نعروں اور رویوں کو نظرانداز کیا گیا، جس کے باعث یہودی اور اسرائیلی طلبہ کے لیے کیمپس کا ماحول معاندانہ بن گیا۔ اسی معاملے پر ٹرمپ حکام اور ہارورڈ انتظامیہ کے درمیان کئی ماہ سے بات چیت جاری ہے۔
صدر ٹرمپ ستمبر میں یہ بھی کہہ چکے تھے کہ ایک ممکنہ سمجھوتہ قریب ہے جس میں ہارورڈ کی جانب سے 500 ملین ڈالر کی ادائیگی شامل ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ہارورڈ یونیورسٹی نے گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس پر ایک جج نے قرار دیا کہ حکومت نے یونیورسٹی کی بعض گرانٹس غیر قانونی طور پر ختم کیں۔
رپورٹس کے مطابق چند دیگر امریکی جامعات حکومت سے سمجھوتہ کر چکی ہیں، جن میں کولمبیا یونیورسٹی نے 220 ملین ڈالر سے زائد کی ادائیگی پر اتفاق کیا، جبکہ براؤن یونیورسٹی نے 50 ملین ڈالر مقامی ورک فورس ڈویلپمنٹ کے لیے دینے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب مظاہرین اور بعض یہودی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید یا فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی حمایت کو یہود دشمنی قرار دینا درست نہیں۔ انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی تحقیقات پر آزادیِ اظہار اور تعلیمی خودمختاری کے حوالے سے سنجیدہ تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
