ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان اہم مذاکرات کا شیڈول طے پا گیا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کے روز ترکی کے شہر استنبول میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوں گے، جن میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی شرکت کریں گے۔ اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تناؤ کے بعد ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مذاکرات کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، تاہم اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف جمعہ کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق اس اہم اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر اور دیگر علاقائی ممالک کے نمائندے بھی شریک ہوں گے، جس سے مذاکرات کی علاقائی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران باہمی احترام کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن دھمکیوں اور دباؤ کی پالیسی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ احترام کا جواب احترام سے اور دھمکیوں کا جواب اسی زبان میں دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق تہران یورینیم افزودگی کے معاملے میں محدود لچک دکھانے پر آمادہ ہے، تاہم اس کے بدلے ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکی جنگی جہاز اور دیگر فوجی اثاثے ایرانی سرحدوں سے دور ہٹائے جائیں۔ اسی تناظر میں ایران کی جانب سے ایک بڑا بحری بیڑا بھی گامزن ہے، جسے خطے میں موجودہ کشیدگی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ امریکہ مسائل کو پرامن اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کا خواہاں ہے، لیکن اگر تنازعہ حل نہ ہوا تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔
